شام کی سرزمین روسی فوج کے لیے جنگی مشقوں کا میدان

چند سال کے دوران 63 ہزار روسی فوجیوں کو شام میں جنگی تربیت دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سنہ 2011ء کو شام میں حکومت کے خلاف شروع ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد روس کو وہاں پر نہ صرف مداخلت کا موقع ملا بلکہ روس نے شام کی سرزمین کو باقاعدہ جنگی مشقوں کے ایک میدان کے طورپر استعمال کیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2015ء کے بعد سے اب تک 63 ہزار روسی فوجیوں کو شام کی سرزمین پر جنگی مہارتوں کی تربیت فراہم کی گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی وزارت دفاع کی طرف سے شام میں جنگی مشقوں کے حوالے سے ایک فوٹیج ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ ’یوٹیوب‘ پر نشر کی گئی ہے جس میں شام میں روسی فوج کی مشقوں کے نتائج کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

ویڈیو میں جاری تفصیلات کے مطابق گذشتہ تین سال کے دوران شام میں 63 ہزار روسی فوجیوں کو جنگی مشقوں کے مختلف مراحل سے گذارا گیا۔ ان فوجیوں میں 434 جنرل، 26 ہزار سینیر افسران اور باقی سپاہی ہیں۔ جنگی مشقوں میں حصہ لینے روسی فوجیوں میں 91 فی صد فضائیہ اور 60 فی صد اسٹریٹجک ڈیژن سے تعلق رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں مشقوں کے دوران 189 نیول مشیقں کی گئیں جن میں 86 بحری جنگی جہازوں، 14 آبدوزوں اور 83 کمک فراہم کرنے والے بحری جہازوں نے حصہ لیا۔ مشقوں کے دوران فضاء سے زمین پر مار کرنے والے 66 میزائل استعمال کئے گئے۔ اس کےعلاوہ روسی فوج نے شام کی سرزمین پر 231 اقسام کا جدید ترین اسلحہ استعمال کیا۔ روس کے 70 ڈرون طیارے بھی شام کی فضاؤں میں موجود رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں