.

ایّامِ تشریق کے آخری روز حجاج کرام مِنی میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایّامِ تشریق کے آخری روز 13 ذو الحجہ کو منی میں رہ جانے والے حجاج کرام کی جانب سے رمی جمرات کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سے قبل حجاج کرام کی ایک بڑی تعداد جمعرات کو مناسکِ حج کے آخری روز غروبِ آفتاب سے قبل مِنی سے کوچ کر گئی تھی۔

حجاج کرام کے بعض گروپ مسجد نبوی کی زیارت کے لیے مدینہ منورہ بھی پہنچ چکے ہیں۔

سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ میزائل حملے کے پیش نظر پہلی مرتبہ مکہ مکرمہ کے اطراف پیٹریاٹ میزائل شکن نظام نصب کیا۔

ماضی میں حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ مکرمہ کو بیلسٹک میزائل کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جا چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں عالم اسلام کے مختلف حصوں میں غیض و غضب کی شدید لہر دوڑ گئی تھی۔

اس سلسلے میں حوثیوں نے مسلمانوں کے مقدس ترین شہر کی جانب پہلا میزائل اکتوبر 2016ء میں اور دوسرا میزائل گزشتہ برس حج سیزن کے آغاز سے تقریبا ایک ماہ قبل جولائی 2017ء میں داغا تھا۔ سعودی فضائی دفاعی نظام نے دونوں میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔