.

شام : السویدہ سے 27 افراد کا اغوا داعش کا جنگی جرم قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جنوبی علاقے میں داعش کے جنگجوؤں نے ستائیس یر غمالیوں کو بدستور اپنے زیر حراست رکھا ہوا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے داعش کے اس فعل کو ’’جنگی جرم‘‘ قرار دیا ہے۔

سخت گیر جنگجو گروپ نے شام کے جنوبی صوبے السویدہ کے دارالحکومت اور مختلف دیہات پر 25 جولائی کو حملے کرکے چھتیس عورتوں اور بچوں کو اغو ا کر لیا تھا۔انھوں نے السویدہ شہر اور اس کے شمال اور مغرب میں واقع متعدد دیہات میں خودکش بم حملے کیے تھے اور فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ایچ آر ڈبلیو نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ داعش نے انھیں شامی حکومت اور اس کے اتحادی ملک روس کے ساتھ سودے بازی کے لیے حراست میں لے رکھا ہے مگر انھیں یرغمال بنائے رکھنا ایک جنگی جرم ہے۔ تنظیم کی مشرقِ اوسط میں ڈپٹی ڈائریکٹر لاما فقیہ نے کہا ہے کہ ’’ شہری زندگیو ں کو سودے بازی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے‘‘۔

صوبہ السویدہ کے دیہاتیو ں نے داعش کے زیر حراست ستائیس یرغمالیوں کے نام بھی جاری کیے ہیں۔ان میں سات کم عمر بچے بھی شامل ہیں ۔ برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ داعش اپنے زیر حراست شہریوں کے بدلے میں اسد حکومت سے پڑوسی صوبے درعا میں گرفتار کیے گئے اپنے جنگجوؤں کی رہائی چاہتے ہیں۔

داعش نے السویدہ سے اغوا کے اس واقعے کے تھوڑے دنوں بعد دو عورتوں کو قتل کردیا تھا اور ایک انیس سالہ طالب علم کا سرقلم کردیا تھا اور اس کی ویڈیو کی سوشل میڈیا پر تشہیر کی تھی لیکن داعش نے اپنے روایتی چینل پر اس کو جاری نہیں کیا تھا۔

اس جنگجو گروپ نے بعد میں ایک 65 سالہ عورت کی موت کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ اس کی صحت ٹھیک نہیں کی تھی۔اس کے علاوہ دو عورتیں داعش کی حراست سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

واضح رہے کہ داعش کے زیر قبضہ شام کا اب تین فی صد سے بھی کم علاقہ رہ گیا ہے ۔گذشتہ قریباً تین سال کے دوران میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے روس کی فضائی مدد سے داعش کے زیر قبضہ بیشتر علاقے واپس لے لیے ہیں۔ البتہ شام کے دور دراز صحرا میں بعض علاقوں پر اس جنگجو گروپ کا قبضہ برقرار ہے۔ان میں السویدہ کے شمال مشرقی حصے میں واقع دیہات ،اس سے متصل صوبہ درعا کے علاقے اور اس سے مزید مشرق میں عراق کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے شامل ہیں۔

لیکن میدان جنگ میں اس شکست کے باوجود داعش اب بھی تباہ کن حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔صوبہ السویدہ ہی میں انھوں نے جمعہ اور ہفتے کی شب ایک حملے میں حکومت نواز آٹھ جنگجوؤں کو ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ کو زخمی کردیا ہے۔اس کے بعد گذشتہ ایک ماہ کے دوران میں داعش کے حملوں میں ہلاک ہونے والے اسد نواز جنگجوؤں کی تعداد 54 ہوگئی ہے جبکہ شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ لڑائی میں 147 جنگجو مارے گئے ہیں۔

السویدہ کے بیشتر علاقوں پر اس وقت شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا کنٹرول ہے ۔اس صوبے میں زیادہ تر دروز اقلیت کے لوگ آباد ہیں۔ دروز شیعوں کا ایک ذیلی فرقہ ہیں اور داعش کے انتہا پسند انھیں گم راہ سمجھتے ہیں ۔