.

اقوام متحدہ کی رپورٹ کا "قانونی" جائزہ لے کر جواب دیں گے : عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد کی قیادت نے باور کرایا ہے کہ وہ یمن کے بحران کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے جاری تمام رپورٹوں کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔

قیادت کا مزید کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ کو عرب اتحاد کی قانونی ٹیم کو پیش کر دیا گیا ہے۔ قانونی پہلو سے جائزہ لینے کے بعد اس حوالے سے مناسب موقف اپنایا جائے گا اور اس کا اعلان کیا جائے گا۔

ادھر متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔

منگل کے روز اپنی ایک ٹوئیٹ میں انہوں نے کہا کہ "رپورٹ کا جائزہ لے کر حقائق کی بنیاد پر اس کا جواب دینا ناگزیر ہے"۔ قرقاش کے مطابق یمن کے بحران میں عرب اتحاد کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل رہے گا ، اس کا مقصد یمنی ریاست کی بحالی ، خطّے کے مستقبل اور اپنی آئندہ نسلوں کو ایرانی مداخلت سے محفوظ بنانا ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ماہرین نے یمن میں جنگ کے بارے میں اپنی پہلی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں نے تشدّد کا راستہ اپنایا اور بچوں کو بھرتی کیا جو اپنی نوعیت میں جنگی جرائم کی سطح تک پہنچے ہوئی کارروائیاں ہیں۔