.

غزہ کا فلسطینی نوجوان امریکی کانگریس کی رُکنیت کا مضبوط امیدوار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے جنگ سے تباہ حال علاقے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ ایک نوجوان کا ستارہ اچانک چمک اٹھا۔ توقع ہے کہ وہ جلد ہی امریکی کانگریس کا رُکن منتخب ہوجائے گا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق ان دنوں امریکی سیاسی حلقوں اور میڈیا میں فلسطینی عرب مسلمان نوجوان عمار نجار کا کافی چرچا ہے۔ اگر وہ کانگریس کا رکن منتخب ہوجاتا ہے تو وہ عمر کے اعتبار سے دیگر ارکان کانگریس میں سب سے چھوٹا اور غزہ سے تعلق رکھنے والا پہلا فلسطینی ہوگا جو اس مقام تک پہنچے گا۔

عمار نجار کی امریکا میں سیاسی میدان میں اترنے کی تفصیلات’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے انگریزی سیکشن میں جاری کی گئی ہیں۔ عمار نجار ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار ہے جب کہ اس کامقابلہ ری پبلیکن پارٹی کے کرپٹ ڈانکن ھنٹر کے ساتھ ہے۔

نجار کے والد فلسطینی نژاد ہیں۔ وہ آج سے کئی سال قبل نقل مکانی کرکے امریکا چلے گئے تھے۔ نجار کی والدہ کیتھولک عیسائی ہیں اور ان کا تعلق میکسیکو سے ہے۔

عمارنجار 24 گھنٹوں کے اندر اندر امریکا کے ابلاغی اور عوامی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ اس کی ایک وجہ ان کے حریف ری پبلیکن پارٹی کے ھنٹر کی کرپشن ہے اور وہ اپنے علاقے کے کرپٹ لیڈر تصور کیے جاتے ہیں۔ چوبیس گھنٹوں میں نجار نے 20 مقامی اخبارات اور ٹی وی چینلوں کوانٹرویو دیے۔

عمار نجار سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ میں ملازمت کرچکے ہیں۔ گذشتہ برس جنوری میں ہونے والے انتخابات میں انہوں نے 17 فی صد ووٹ حاصل کئے جب کہ ان کے حریف ان سے 30 پوائنٹس آگے تھے۔ ھنٹر کے آگے ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ریاست کیلی فورنیا میں 10 سال سے سیاسی میدان میں تھے۔ وہ ماضی میں فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور عراق جنگ میں بھی وہ شامل رہے ہیں۔

عمارکےوالد نجار نے کہا کہ ہم کسی حلیف یا حریف کی قیمت پر انتخابات جیتنے کے خواہش مند نہیں بلکہ ہمیں چاہتے کہ پارلیمنٹ میں ہمیں ہمارے علاقے کی وجہ سے نمائندگی دی جائے۔

امریکی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمار نجار ھنٹر کے مقابلے میں زیادہ مضبوط امیدوار ہیں۔ اگرچہ ھنٹر سنہ 2008ء کو کانگریس کے رکن منتخب ہوئے تھے مگر ان پر کرپشن اور مالی بدعنوانی کے الزامات نے ان کے سیاسی کیریئر کو داغ دار کردیا ہے۔