پارلیمنٹ میں پوچھ گچھ کے بعد روحانی رہبرِ اعلی کے منصب پر فائز ہو سکیں گے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

تہران کے سیاسی حلقوں میں یہ بات زیر گردش آ رہی تھی کہ ایرانی صدر حسن روحانی ملک کے رہبرِ اعلی علی خامنہ ای کی جاں نشینی کے واسطے مضبوط ترین امیدواروں میں سے ایک ہیں۔ تاہم ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے روحانی طلب کیے جانے اور ملک کی اقتصادی صورت حال کے حوالے سے پوچھ گچھ کیے جانے کے بعد ایرانی صدر کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

منگل کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے ایک اعلان میں کہا گیا کہ اُس کے ارکان ملک کو درپیش بحرانات کے حوالے سے صدر حسن روحانی کے جوابات سے مطمئن نہیں ہو سکے۔ ان بحرانات میں مہنگائی، بے روزگاری، غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں اضافہ، مقامی کرنسی کی قدر میں گراوٹ، کساد بازاری اور اسمگلنگ شامل ہے۔ لہذا اب یہ استفسارات فیصلے کے لیے عدلیہ تک پہنچائے جائیں گے۔

اس طرح قانون ساز حکام نے روحانی کی عوامی قانونی حیثیت پر شکوک کا اظہار کر دیا ہے اور اُن کو ایک مشکل اور نہایت پیچیدہ پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ بالخصوص ایک ایسے نظام میں جہاں ملک کا صدر ہمیشہ اپنے سے بالا تر شخصیت کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ وہ شخصیت اس وقت رہبر اعلی علی خامنہ ای ہیں۔

روحانی کو اس وقت جس دباؤ کا سامنا ہے وہ تقریبا 4 دہائیوں قبل ایران میں مذہبی نظام کے پہلے صدر ابو الحسن بنی صدر کو درپیش دباؤ سے قدرے مختلف ہے۔ بنی صدر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا جس کے انہوں نے ملک سے فرار ہو کر فرانس میں پناہ لے لی۔ روحانی کا معاملہ احمدی نژاد سے بھی نہیں ملتا جنہوں قانون ساز حکام کے باہر سے آنے والے دباؤ کے بعد پارلیمنٹ میں پوچھ گچھ کے دوران قانون ساز ارکان کو مطمئن کر دیا تھا۔

ڈوئچے ویلے کی فارسی سروس کے تجزیہ کار جمشید برزجر کے مطابق حسن روحانی نے اپنی دوسری مدت صدارت کا آغاز پارلیمنٹ کی حمایت سے مستفید ہونے کی امید کے ساتھ کیا تھا جب کہ اس وقت وہ اصلاح پسندوں اور اعتدال پسندوں کے اُس بلاک کی حمایت سے بھی محروم ہیں جس کی پارلیمنٹ میں تشکیل کے لیے روحانی نے اپنا کردار ادا کیا تھا۔

روحانی سے سوال جواب سے چند روز قبل ایرانی پارلیمنٹ نے وزیر اقتصادیات و مالیات اور وزیر محنت، تعاون و سماجی بہبود سے پوچھ گچھ کے بعد دونوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا تھا۔ اس امر نے خاص طور پر ایرانی صدر کے سیاسی مستقبل کے ابہام میں اضافہ کر دیا جن کو گزشتہ ہفتے قم میں مذہبی مرکز کے ایک اجتماع میں قتل کی دھمکیاں بھی موصول ہوئیں۔

ایران کی ’خبر گان کونسل‘ کے ترجمان اور سخت گیر شیعہ مذہبی رہ نما احمد خاتمی نے پیر کے روز بتایا کہ صدر حسن روحانی نے ملک میں ابتر اقتصادی صورت حال کے بارے میں تیار کی گئی رپورٹ کونسل میں پیش کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں ابتر معاشی صورت حال کے حوالے سے حال ہی میں ایک رپورٹ تیار کی گئی تھی مگراسے خبر گان کونسل میں پیش نہیں کیا گیا۔ ایرانی ایوان صدر اور طاقت ور ادارے خبرگان کونسل کے درمیان تناؤ کی کیفیت ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب امریکا کی طرف سے تہران پرعاید کردہ پابندیوں کے نتیجے میں ایران بدترین معاشی بحران کا شکار ہے۔

خبر گان کونسل کے ترجمان نے نیوز ایجنسی ‘ارنا‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر حسن روحانی کونسل کو ملک کی معاشی صورت حال اور بحران سے باخبر نہیں کرنا چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاری جانی اور جوڈیشل کونسل کے سربراہ صادق لاری جانی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ خبر گان کونسل کو ملک کی موجودہ گھمبیر معاشی صورت حال کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

کونسل نے ایک سابقہ بیان میں صدر روحانی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات کے دوران مطلوبہ یقین دہانیوں کے عدم حصول پر معذرت پیش کریں۔

اس طرح خبرگان کونسل کے سامنے رپورٹ پیش کرنے سے انکار کے بعد حسن روحانی اس کونسل کے ساتھ تنازع میں داخل ہو گئے جو "آيت اللہ" کے درجے کی 89 مذہبی شخصیات پر مشتمل ہے۔ ان کی ذمّے داری رہبرِ اعلی کے مدت حکمرانی کی نگرانی ہے۔ اس کے علاوہ رہبرِ اعلی کی موت یا آئینی فرائض کی انجام دہی میں ناکامی کی صورت میں یہ کونسل نئے رہبر کا تقرر کرتی ہے۔

یہ سوال مسلسل سامنے آ رہا ہے کہ کیا خبرگان کونسل کو چیلنج کرنے کے بعد کیا ایرانی صدر آئندہ رہبر اعلی کے منصب کے امیدواروں میں باقی رہیں گے ؟

اس سلسلے میں حسن روحانی کو درج ذیل اہم مذہبی شخصیات سے مقابلے کا سامنا ہو گا :

1 ۔ مجتبى خامنہ ای : 8 ستمبر 1969ء کو پیدا ہونے والا ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کا یہ بیٹا پاسداران انقلاب کے بہت قریب ہے۔ بعض کے نزدیک خامنہ ای اپنے بیٹے کو جاں نشینی کی مسند تک پہنچانے کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔

2 ۔ محمود ہاشمی شاہرودی : یکم ستمبر 1948ء کو پیدا ہونے والے شاہرودی ایک معتدل مزاج سیاست داں اور ایرانی مذہبی شخصیت ہیں۔ انہوں نے نجف کے علمی مرکز سے اجتہاد کی سند حاصل کی۔ وہ 80ء کی دہائی کے اوائل میں عراق میں تاسیس پانے والی اسلامی انقلاب کی سپریم کونسل کے سربراہ بھی رہے۔ وہ دو مدتوں کے لیے ایرانی عدلیہ کے سربراہ بھی بنے۔ وہ اس وقت ملک کے تین اختیاراتی اداروں کے درمیان اختلاف کو حل کرنے والی اعلی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔

3 ۔ صادق آملی لاريجانی : نجف میں 12 مارچ 1961ء کو جنم لینے والے صادق لاریجانی اس وقت ایرانی عدلیہ کے سربراہ ہیں۔ اس منصب پر ان کا تقرّر 15 اگست 2009ء کو رہبر اعلی علی خامنہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ صادق لاریجانی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی کے بھائی ہیں۔

4 ۔ ابراہیم رئیسی : یہ 14 دسمبر 1960ء کو ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ پاسداران انقلاب کی قیادت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے والی ایک مذہبی شخصیت ہیں۔ انہوں نے 1989ء میں تہران میں جنرل پراسیکیوٹر کا منصب سنبھالا اور 1994ء تک اسی عہدے پر فائز رہے۔ سال 1988ء میں ہزاروں قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کے اجتماعی عمل میں ملوث ہونے کے حوالے سے رئیسی کا بھی نام آتا ہے۔ سال 2016ء میں رہبر اعلی علی خامنہ ای نے رئیسی کو مشہد میں مدفون شیعوں کے آٹھویں امام رضا کے مزار کا متولی مقرر کر دیا۔ وہ 6 اپریل 2017ء کو ایران میں صدارتی انتخابات کے لیے نامزد ہوئے تاہم اپنے مقابل حسن روحانی سے شکست کھا گئے۔

5 ۔ حسن خمينی : 3 دسمبر 1972ء کو پیدا ہونے والی یہ ایرانی مذہبی شخصیت ایرانی انقلاب کے سرخیل خمینی کا پانچواں پوتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اصلاح اور اعتدال پسندوں کی جانب مائل حسن خمینی کا ایران میں تاب ناک سیاسی مستقبل ہے۔ حسن نے 2015ء میں خود کو خبرگان کونسل کے انتخابات میں نامزد امیدوار کے طور پر پیش کیا تاہم شوری نگہبان نے حسن کی نامزدگی کو مسترد کر دیا کیوں کہ اُس نے اجتہاد کا امتحان دینے سے انکار کر دیا تھا۔

بہرکیف پروسٹیٹ کے کینسر میں مبتلا حالیہ رہبر اعلی علی خامنہ کی وفات کی صورت میں ایرانی صدر حسن روحانی کو مذکورہ بالا شخصیات سے مقابلہ کرنا ہو گا۔ تاہم روحانی کو درپیش صورت حال اس میدان میں اُن کے لیے زیادہ اچھی خبر نہیں دے رہی ہے۔ یہ علاحدہ بات ہے کہ وہ اس پیچیدہ اور گھمبیر صورت حال سے نکل آئیں اور خبرگان کونسل کے ووٹ کے علاوہ پاسداران انقلاب کے عسکری عہدے داران اور قُم میں مذہبی ادارے کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں