مصری فوج کی مختلف کارروائیوں میں 20 انتہا پسند ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری فوج نے مغربی صحرا اور جزیرہ نما سیناءمیں مختلف کارروائیوں میں مزید بیس انتہا پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔

مصری فوج فروری سےسیناءاورمغربی صحرا میں داعش کے جنگجو ؤں اوردوسرے انتہا پسندوں کے قلع قمع کے لیے بڑی کارروائی کررہی ہے۔

اس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ لیبیا کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں گذشتہ چند روز کے دوران میں کارروائیوں میں سات انتہائی خطرناک جنگجو مارے گئے ہیں۔اس نے مزید بتایا ہے کہ سیناء کے شمالی اور وسطی علاقوں میں فوج کی چھاپا مار کارروائیوں اور فائرنگ کے تبادلے میں تیرہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

مصری سکیورٹی فورسز نے سیناء میں ان کارروائیوں میں اٹھارہ مطلوب مشتبہ جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے اٹھارہ ٹھکانے تباہ کردیے ہیں۔

داعش نے اتوار کو شمالی سیناء میں سکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوائنٹ پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔داعش کی خبررساں ایجنسی اعماق نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں پندرہ فوجی ہلاک یا زخمی ہوگئے تھے۔اس نے حملے کو دراندازی کی کارروائی قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ جزیرہ نما سیناء میں مختلف جنگجو گروپوں نے مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی 2013ء میں برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے اور وہ آئے دن فوج اور پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔مصری حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک سیکڑوں سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسرائیل اور غزہ کی پٹی کی سرحد کے ساتھ واقع صوبے شمالی سیناء میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے والوں میں سب سے نمایاں داعش سے وابستہ جنگجو گروپ صوبہ سیناء یا انصار بیت المقدس ہے۔مصری فوج کے مطابق فروری میں ’’ آپریشن سیناء 2018 ء ‘‘ کے آغاز کے بعد سے کم سے کم تین سو مشتبہ جنگجو ہلاک کردیے گئے ہیں جبکہ ان کے ساتھ جھڑپوں میں پینتیس فوجی مارے گئے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے سیناء کے علاوہ دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا یا ہے۔وہ مصر کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت قبطی عیسائیوں پر بھی بم حملے کرتے یا انھیں فائرنگ میں نشانہ بنا تے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں