ادلب میں 29 لاکھ افراد کی زندگی خطرے میں ہے: دی میستورا

تُرکی، ایران اور روس ادلب میں جنگ ٹالنے کے لیے اقدامات کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب اسٹیفن ڈی میستورا نے خبردار کیا ہے کہ شام کے ادلب شہر میں اپوزیشن اور عسکری گروپوں کے خلاف جنگ کی صورت میں وہاں پر رہنے والے 29 لاکھ افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے روس، ایران اور ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ ادلب میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جنگ ٹالنے کے لیے اقدامات کریں۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران دی میستورا نے تینوں ممالک ایران، روس اور ترکی سے مطالبہ کیا کہ وہ ادلب میں خون خرابہ نہ ہونے دیں۔ جنگ کی صورت میں حکومت اور مسلح گروپ کلورین گیس سمیت دیگر کیمیائی ہتھیار استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ادلب میں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادلب میں عسکری گروپوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے قبل شہریوں کے پرامن اور محفوظ انخلاء کے لیے محفوظ راستہ دیا جائے ورنہ وہاں پر انسانی المیہ رونما ہونے سے نہیں روکا جاسکتا۔

ڈی میستورا کا کہنا تھا کہ میں ذاتی طورپر خود ادلب میں پہنچ کر عام شہریوں کے تحفظ کے لیے انسانی کوری ڈور قائم کرنے کے لیے تیار ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کی صورت میں ادلب میں 29 لاکھ افراد لقمہ اجل بن سکتےہیں۔ ادلب میں جنگ عالمی برادری کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔

انہوں نے روس، ترکی اور ایران پر زور دیا کہ وہ ادلب میں خون خرابہ روکنے کے لیے اقدامات کریں اور ادلب میں کلورین گیس کے استعمال کے خطرات کا تدارک کریں۔

اقوام متحدہ کے مندوب کا کہنا تھا کہ ادلب میں النصرہ اور القاعدہ کے 10 ہزار جنگجو موجود ہیں۔ ان کے خلاف فوجی کارروائی وہاں پر کوئی نیا انسانی المیہ پیدا کرسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں