.

ادلب میں شہریوں کے محفوظ انخلاء کے لیے بات چیت جاری ہے: لافروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف نے کہا ہے کہ شام کے ادلب شہر میں شدت پسند عسکری گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی سے قبل وہاں سے شہریوں کے پر امن انخلاء کے لیے بات چیت جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم ادلب میں انسانی کوری ڈور قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس حوالے سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

روس کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی وزیرخارجہ نے کہا کہ شام کی حکومت کو ’دہشت گردوں‘ کے تعاقب اور انہیں ادلب سے نکال باہر کرنے کا مکمل حق ہے‘۔ ان کا یہ موقف اسد رجیم کو ادلب میں ننگی جارحیت کے لیے کھلی چھٹی دینے کے مترادف ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ شام کے حوالے سے ماسکو اور واشنگٹن آپس میں رابطے میں ہیں۔ ادلب اور دوسرے علاقوں میں روس کوئی پوشیدہ کارروائی نہیں کر رہا ہے۔

قبل ازیں جمعرات کو شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا تھا کہ ادلب میں آپریشن ’النصرہ فرنٹ‘ کے جنگجوؤں کے خلاف کیا جائے گا۔

ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں ولید المعلم کا کہنا تھا کہ مغرب النصرہ فرنٹ کو بچانے کے لیے شام پر سہ جہتی حملہ کرنا چاہتا ہے۔