.

امریکا نے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے ’اونروا‘ کی امداد مکمل بند کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت نے فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے قائم کردہ اقوام متحدہ کی ’ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی‘[اونروا] کی مالی امداد مکمل طور پر ختم کر دی ہے۔

جُمعہ کے روز امریکی حکومت کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر فلسطینی پناہ گزین ایجنسی ’اونروا‘ کی مالی امداد مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں امریکی حکومت نے فلسطینی پناہ گزینوں کو دی جانے والی سالانہ امداد میں 65 ملین ڈالر کی کمی کرتے ہوئے امدادی رقم 60 ملین ڈالر تک محدود کر دی تھی۔

امریکا کی طرف سے ’اونروا‘ کی امداد ختم کیے جانے کے نتیجے میں امدادی ایجنسی کو شدید دھچکا لگے گا کیونکہ یہ ادارہ اردن، لبنان، شام غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی کفالت کرتا ہے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد ختم کرنے کا امریکی اقدام اپنی نوعیت کا نیا اعلان نہیں۔ ایک ہفتہ پیشتر امریکی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کو غزہ اور غرب اردن میں شہری فلاح وبہبود کے لیے دی جانے والی 20 کروڑ ڈالر کی امداد بھی روک دی تھی۔

امریکی انتظامیہ کی طرف سے اقوام متحدہ کے ادارے ’اونروا‘ پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اس تنقید میں پیش پیش رہے ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی قیادت نے امریکا کی طرف سے امداد بند کیے جانے کو انتقامی سیاست قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی امداد اس لیے بند کی گئی کیونکہ ہم نے بیت القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کو مسترد کردیا تھا۔

درایں اثناء جرمن وزیر خارجہ ھائیکوماس نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’اونروا‘ کی مالی معاونت میں اضافہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد روکنا خطے کو ایک نئی کشیدگی سے دوچار کرنا اور غیر یقینی کیفیت پیدا کرنا ہے۔