.

غلاف کعبہ شریف کے مناظر جوشاید آپ نے پہلے نہ دیکھے ہوں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غلاف کعبہ شریف کی تیاری اور اسے کعبۃ اللہ کی زینت بنائے جانے تک غلاف کئی مراحل سے گذرتا ہے۔ ذی القعدہ میں کپڑا اٹھایا جاتا ہے اور آخر میں تبدیل ہونے والا غلاف سنہ کعبہ شریف کےحوالے کیا جاتا ہے۔ غلاف کعبہ کو اس کے کارخانے سے ایک خاص گاڑی کے ذریعے ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ محرم الحرام کےمہینے میں غلاف کا کپڑا لٹکا دیا جاتا ہے۔

’غلاف کعبہ‘ کے مختلف مراحل کے بارے میں شاید آپ پہلے کم جانتےہوں۔ ایک دستاویزی فلم ’غلاف کعبہ‘ کے عنوان سے حال ہی میں ریلیز کی گئی ہے۔ یہ دستاویزی فلم الحرمین الشریفین کی جنرل پریزیڈنسی کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔ اس میں غلاف کعبہ کے ان واقعات کا ذکر ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

فلم کی تیاری کے سپروائزر اور اطلاعات ومواصلات کے ڈائریکٹر سلطان بن سعود المسعودی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’غلاف کعبہ‘ اپنی نوعیت کی پہلی دستاویز فلم ہے جس میں خانہ کعبہ کےغلاف اور اس کی تیاری کےبارے میں جامع اور مستند معلومات دی گئی ہیں۔

اس فلم میں غلاف کعبہ کی تیاری کے حوالے سے سعودی عرب کی حکومت اور سال بھر جاری رہنے والے اس بابرکت عمل کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غلاف کعبہ کے حوالے سےدستاویزی فلم کی شوٹنگ غلاف کعبہ آڈیٹوریم میں 10 دن تک جاری رہی۔ اس میں تبدیلی غلاف کے چار ایام کا اضافہ ہے۔ تاہم مجموعی طورپر یہ کام ڈیڑھ سال تک جاری رہا۔

المسعودی کا کہنا تھا کہ غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے اپنے پیشے کے ماہرین کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جب کہ دستاویزی فلم کی تیاری میں بھی 25 ماہرین نے حصہ لیا۔ اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا جب کہ دیگر کئی زبانوں میں اس کے تراجم جاری ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں المسعودی کا کہنا تھا کہ غلاف خانہ کعبہ کے حوالے سے تیار کردہ دستاویزی فلم سعودی عرب کے جنگی بیڑے، الحرمین ریلو گاڑی اور مملکت کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر دکھائی جائے گی۔

اس دستاویزی فلم کا افتتاح خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے مشیر اور مکہ معظمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل کے دفتر میں ان کی نگرانی میں ہوا۔ اس موقع پرڈپٹی گورنر مکہ شہزادہ عبداللہ بن بندر اور مسجد حرام اور مسجد نبوی کی جنرپریزیڈنسی کے چیئرمین الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس بھی موجود تھے۔