.

ایرانی کرنسی کا سنگین بحران ، مرکزی بینک تیل کی آمدن استعمال نہ کرنے پر ڈٹ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے مرکزی بینک کے نئے سربراہ عبدالناصر ہمّتی نے باور کرایا ہے کہ اُن کا ملک تیل سے حاصل ہونے والی رقم اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھے گا تا کہ امریکا کے ساتھ اقتصادی جنگ لڑی جا سکے۔ ہمّتی نے زور دے کر کہا کہ اِنہیں گرتی ہوئی قومی کرنسی کی سپورٹ کے لیے استعمال میں ہر گز نہیں لایا جائے گا۔

ہفتے کے روز تہران میں اسلامی بینکوں کے حوالے سے ہونے والے ایک سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے ہمّتی نے کہا کہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو ملکی اقتصادی رکاوٹوں کے دوران استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

ایرانی کرنسی کو اس وقت تاریخی مندی کا سامنا ہے۔ پیر کے روز ایک ڈالر کی قیمت 1.28 لاکھ ریال تک پہنچ گئی جو گزشتہ چند ماہ کے دوران ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ایرانی کرنسی کی قدر میں بتدریج کمی کا آغاز اُس وقت ہوا جب امریکا نے رواں برس مئی میں جوہری معاہدے سے علاحدہ ہو جانے اور ایرانی معیشت پر ایک بار پھر کڑی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔

ایرانی مرکزی بینکے گورنر کا کہنا تھا کہ "ہمیں دولت مند بچوں کی طرح نہیں رہنا چاہیے کہ کرنسی کی قدر کو سپورٹ کرنے کے لیے تیل کی آمدنی کو استعمال کر لیں"۔ ہمّتی نے تجویز پیش کی کہ "تیل کے سوا دیگر برآمدات کی آمدنی کو قومی کرنسی کی سپورٹ کے واسطے استعمال کرنا چاہیے"۔

ایرانی کرنسی کی قدر میں گراوٹ کے نتیجے میں افراطِ زر کی شرح بلند ہو گئی، بنیادی ضرورتوں کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور عوام کی قوّت خرید کمزور ہو گئی۔ دشوار معاشی حالات اور بے روزگاری میں اضافے کے سبب عوام کی جانب سے غم و غصّے سے بھرپور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

ایسے میں جب کہ عبدالناصر ہمّتی نے ایرانی کرنسی کے مسائل کو بینکنگ سیکٹر میں "عدم توازن" کے ساتھ جوڑا ہے ،،، ایران میں ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ایرانی اقتصادی نظام کے ڈھانچے کے مسائل کا تعلق بدعنوانی اور بدانتظامی سے ہے۔ علاوہ ازیں ایران تیل کی آمدنی پر انحصار کر رہا ہے جب کہ اسے پیداوار سے محرومی اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کی قدرت نہ ہونے کا سامنا ہے۔