.

شام : 22 روز کے وقفے کے بعد اِدلب پر روسی طیاروں کے حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق روسی لڑاکا طیاروں نے 22 روز کے وقفے کے بعد منگل کے روز اپوزیشن کے زیر کنٹرول اِدلب صوبے پر نئے فضائی حملے کیے ہیں۔

المرصد اور شامی اپوزیشن کے ذرائع نے بتایا کہ حملوں میں ملک کے شمال مغرب میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول دیہی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس انتباہ کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے جس میں شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد اور اس کے دونوں حلیفوں روس اور ایران کو خبردار کیا گیا تھا کہ اِدلب پر کیے جانے والے حملے میں ہزاروں افرد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ "ادلب پر حملہ کر کے بشار الاسد، ایران اور روس بہت بڑی انسانی غلطی کریں گے۔ اس حملے کے نتائج انتہائی خطرناک اور بھیانک ہو سکتے ہیں"۔

قبل ازیں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا تھا کہ شمالی ادلب کی صورت حال پر صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعتدال پسند اپوزیشن اور دہشت گردوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا نا گزیر ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے بھی ادلب کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ادلب صوبے میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنا ہوگی۔

روس، ترکی اور ایران کے سربراہان سات ستمبر کو ایران میں اکٹھا ہو رہے ہیں جہاں توقع ہے کہ وہ شمال مغربی شام کی صورت حال کو زیر بحث لائیں گے۔