.

بشار حکومت اور داعش کے بیچ وساطت کے ذمّے دار افراد اور اداروں پر امریکی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خزانہ نے جمعرات کے روز 4 افراد اور 5 اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن پر شام میں بشار حکومت اور داعش تنظیم کے درمیان توسّط اور دمشق کو ایندھن اور اسلحہ فراہم کرنے کے الزامات تھے۔

امریکی وزارت کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پابندیوں کا نشانہ بننے والے افراد اور اداروں کے تمام اثاثوں اور املاک کو منجمد کر دیا گیا ہے اور ان کے ساتھ امریکی شہریوں کا تجارتی لین دین ممنوع ہو گا۔

شام کے معروف تاجر محمد القاطرجی اور اُس کی القاطرجی کمپنی پر الزام ہے کہ انہوں نے بشار حکومت اور داعش تنظیم کے درمیان وساطت کار بن کر کام کیا، بالخصوص تا کہ تنظیم کے زیر قبضہ اراضی میں ایندھن فراہم کیا جا سکے۔ اسی طرح امریکی یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ اُس نے غذائی اشیاء کی درآمد و برآمد کی سرگرمیوں کی آڑ میں بشار حکومت کے لیے ہتھیار اور گولہ بارود بھی منتقل کیا۔

امریکی پابندیوں میں شام میں یاسر عبّاس نامی ایک وساطت کار بھی شامل ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ یہ الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے ایران سے ایندھن اور اسلحے کی درآمد اور شامی فضائیہ تک منتقلی میں سہولت کار کردار ادا کیا۔

علاوہ ازیں امریکی وزارت خزانہ نے شام اور لبنان میں کام کرنے والی بعض کمپنیوں اور افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں کیوں کہ انہوں نے بشار حکومت کو تیل، ایندھن اور مائع گیس فراہم کی تھی۔ یہ معاملہ لبنانی کمپنی "آبار پٹرولیم سروس"، "سونکس انویسٹمنٹ کمپنی" اور "نیسکو پولیمرز" کمپنی کے علاوہ عدنان العلی اور فادی ناصر سے متعلق ہے۔