.

روس، ایران، ترکی سربراہ کانفرنس کے جلو میں ادلب پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج جمعہ کو روس، ایران اور ترکی کی کی سربراہ قیادت تہران میں جمع ہو رہی ہے۔ تینوں ملکوں کے سربراہ اجلاس کا اہم ترین ایجنڈے شام کا شہر ادلب ہے جہاں عن قریب روس، شام اور بشار الاسد مل کر اپوزیشن کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں۔

دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظررکھنے والے ادارے ’آبزرویٹری‘ نے بتایا ہے کہ ایک طرف ادلب کے حوالے سے تینوں ملکوں کا سربراہ اجلاس آج تہران میں ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ادلب میں بمباری جاری ہے۔

انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ ادلب کے جنوبی علاقوں پر جمعہ کی رات متعدد مقامات پر اپوزیشن کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔

ادلب میں آپریشن کے حوالے سے تین ملکوں کا سربراہ اجلاست تہران میں ہو رہا ہے۔ عالمی برادری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اور روس ادلب میں وسیع پیمانے پر آپریشن کے حق میں جب کہ ترکی آپریشن کی مخالفت کر رہا ہے۔

قبل ازیں روسی حکام کی طرف سے کہا گیا تھا کہ صدر ولادی میر پوتین، ان کے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن اور ایرانی صدر حسن روحانی تہران میں ملاقات کریں گے۔

امریکا اور اقوام متحدہ نے ادلب میں فوج کشی کی شدید مخالفت کی ہے خبر دار کیا ہے کہ ادلب میں بمباری کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔