.

شام میں ملیشیا کا سربراہ علی کیالی 60 کتابوں کا مصنف!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں حال ہی میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں علی کیالی نامی عسکری کمانڈر کے زندہ بچ جانے کی خبر نے انہیں گم نامی سے شہرت کی معراج تک پہنچا دیا۔ علی کیالی اس واقعے سے قبل گم نامی کی زندگی گذار رہے تھے مگر اس دھماکے نے یک دم ان کی شخصیت کو بے نقاب کردیا۔

شام میں شیعہ ملیشیاؤں کے سربراہ علی کیالی شام کے ساتھ ترکی کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ وہ ’عوامی محاذ برائے ازادی بریگیڈ اسکندرون‘ کے سربراہ ہیں۔ اس پر الزام ہے اس نے سنہ 2013ء میں طرطوس گورنری میں ’بانیاس‘ کے مقام پر قتل عام کا حکم دیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کو تہہ تیغ کردیا گیا۔ لوگوں کو چھریوں کے ساتھ ذبح کیا گیا۔ انہیں گولیاں ماری گئیں اور تشدد کے دیگر ہتھکنڈوں سے ہلاک کرنے میں بھی علی کیالی کا ہاتھ تھا۔

یہی وجہ ہے کہ علی کیالی ’بانیاس کے قصاب‘ کے عنوان سے مشہور ہوا۔

علی کیالی نے کردستان ورکز پارٹی جسے ترکی دہشت گرد قرار دیتا ہے، کے ساتھ اتحاد کیا۔ اس حمایت کی وجہ سے ترکی نے بھی اسے اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ ترکی کی ایک عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور اسے غائبانہ طورپر سزائے موت بھی سنائی جا چکی ہے۔

10 مارچ 1978ء کو کیالی کو انقرہ میں گرفتار کیا گیا جہاں وہ سینٹرل جیل ’اضنہ‘ میں 1980ء تک قید رہا۔ اس کے بعد وہ شام چلا گیا اور آج تک وہیں مقیم ہے۔ شام آنے کے بعد حافظ الاسد کی حکومت نے علی کیالی پر نوازشات شروع کر دیں اور اسے دوسرے ممالک کے دوروں کے لیے پاسپورٹ بھی دے دیا۔

اس نے یورپی ممالک کے دورے بھی شروع کر دیے۔ اس دوران وہ متعدد بار گرفتار اور جیل میں بھی گیا۔ اس پر اسد رجیم کے مخالفین کے خلاف اشتعال انگیز مہمات چلانے کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔ سنہ 1988ء میں اسے فرانس میں گرفتار کیا گیا۔ دہشت گردی کے الزام میں اس کی ایک بار جرمنی میں بھی گرفتاری عمل میں آئی۔ وہ جہاں بھی گیا اس نے حافظ الاسد کی حامیت اور اس کے مخالفین کو زچ کرنے کی مہم جاری رکھی۔

مصنف اور لکھاری

علی کیالی کے بارے میں جو حیران کن معلومات سامنے آئی ہیں ان میں اس کا مصنف اور لکھاری ہونا بھی ہے۔ شام اور ترکی میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں پیش پیش رہنے والا یہ شخص 60 کتابوں کا مصنف ہے اور اس نے کم سے کم 9000 مضامین لکھے۔

شام کے شہر اللاذقیہ میں اس پر ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے کے بعد علی کیالی کی تنظیم کی طرف سے یہ حیران کن معلومات جاری کی گئی ہیں۔

عوامی محاذ برائے اسکندرون بریگیڈ نے سنہ2011ء میں بشارالاسد کے دفاع میں ہتھیار اٹھائے۔ اس کے بعد ادلب، اللاذقیہ، حلب، حماۃ، حمص، دیر الزور اور الحسکہ میں اس کے جنگجو پھیل گئے۔ اپوزیشن نے متعدد بار علی کیالی کو ہلاک کرنے کے لیے اس پرحملے کیے مگر وہ ہربار بچ نکلتا رہا ہے۔