.

بصرہ میں ایرانی قونصل خانہ نذر آتش، شہر میں کرفیو لگا دیا گیا

الحشد الشعبی کے دفاتر پر حملے، بغداد میں سیکیورٹی انتہائی چوکس کر دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں مشتعل مظاہرین نے ایرانی قونصل خانے پردھاوا بول کر اس کی عمارت کو آگ لگا دی۔ مظاہرین نے قونصل خانے سے ایرانی پرچم اتار کر اس کی جگہ عراقی پرچم لہرا دیا۔

’العربیہ‘ کے نامہ نگار کے مطابق جمعہ کے روز بھی بصرہ میں کشیدگی برقرار رہی۔ پولیس کی فائرنگ سے مزید ایک احتجاجی ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے جس کے بعد گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بصرہ میں ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد 10 تک جا پہنچی ہے۔

کرفیو

بصرہ میں ملٹری آپریشنل کنٹرول روم کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہر میں جاری شورش پر قابو پانے کے لیے ایک بار پھر کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ عراقی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز کرفیو میں نرمی کی گئی تھی مگر احتجاج کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد شام پانچ بجے دوبارہ کرفیو لگا دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی فوری طور پر گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ایرانی قونصل خانہ نذرآتش

بصرہ میں جمعہ کے روز مشتعل مظاہرین نے ایرانی قونصل خانے پردھاوا بول دیا اور عمارت میں گھس کر اسے آگ لگا دی۔ مشتعل مظاہرین نے قونصل خانے پر لگا ایرانی پرچم اتار کر پاؤں تلے روندا۔

ادھر دوسری جانب ایران نے بصرہ میں اپنے قونصل خانے کے نذرآتش کیے جانے کا اعتراف کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا ہے کہ مشتعل ھجوم نے بصرہ میں اس کے سفارتی عملے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قونصل خانے پر حملہ ایک سازش ہے جس کے پیچھے ایران دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے قونصل خانے پر حملہ کرنے والے افراد کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا اور اعتراف کیا کہ قونصل خانے پر حملے کے نتیجے میں عمارت اور دفاتر کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے قونصل خانے پر مظاہرین کی یلغار کو وحشیانہ کارروائی قراردیا۔