.

قامشیلی :اسد نواز ملیشیا اور کرد فورسز میں جھڑپوں میں 18 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرقی شہر قامشیلی میں کرد فورسز اور اسد نواز ملیشیا کے درمیان جھڑپوں میں اٹھارہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

کرد سکیورٹی فورسز آسایش نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع کرد اکثریتی شہر میں جھڑپوں میں سرکاری فورسز کے گیارہ جنگجو اور سات کرد مارے گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بھی ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ سرکاری فورسز اور کردوں کے درمیان قامشیلی کے نزدیک واقع ایک چیک پوائنٹ پر جھڑپ ہوئی ہے۔

آسایش کا کہنا ہے کہ اسد رجیم کی گشتی پارٹی نے ہماری فورسز پر ہلکے اور درمیانے ہتھیاروں سے پہلے حملہ کیا تھا ۔اس کے جواب میں ہماری فورسز نے بھی فائرنگ شروع کردی ہے۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ آسایش کے ارکان نے چیک پوائنٹ پر ایک گاڑی پر سوار اسد نواز جنگجوؤں کو رکنے کا کہا تھا لیکن انھوں نے اس سے انکار کردیا تھا ۔اس پر کرد فورسز نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی ۔اس کے بعد دونوں نے اپنی اپنی کمک کو بُلا بھیجا اور پھر ان کے درمیان خونریز جھڑپ ہوئی ہے ۔

واضح رہے کہ قامشیلی شہر کے زیادہ تر علاقوں پر کرد فورسز کا کنٹرول ہے لیکن اسدی فورسز اور اس کی اتحادی ملیشیا کا شہر کے ایک حصے اور ہوائی اڈے پر قبضہ ہے۔ قبل ازیں اپریل 2016ء میں ان کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں ۔ان میں سترہ شہری ، دس کرد جنگجو اور اکتیس سرکاری فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔تاہم چند ایک روز کی لڑائی کے بعد ان میں جنگ بندی ہو گئی تھی۔