.

’تمباکو نوشی کی لعنت جو اسٹریچر پر بھی نہ چھوٹی‘

مصر میں مریض اسپتال لے جاتے ہوئے بھی سگریٹ نوشی میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں سوشل میڈیا پر ایک تصویر کا کافی چرچا ہے جس میں ایک مریض کو اسٹریچر پر اسپتال لے جایا جا رہا ہے مگر وہ مسلسل سگریٹ نوشی کر رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پرآنے والی تصاویر مصر کے شہر اسکندریہ کےایک شہری کی ہیں جسے ایک مقامی اسپتال میں سرجری کے لیے اسٹریچر پرلے جایا جا رہا تھا۔ اس کی جسمانی حالت پہلے بھی کافی خراب تھی اور وہ خود سے چل کر اسپتال نہیں جاسکتا تھا۔ اس کے اقارب نے اسے ایمبولینس سے اتار کر اسٹریچر پر ڈالا تو اس نے وہاں پر بھی سیگریٹ سلگا لیا۔ ایسے حساس موقع پر بھی سگریٹ نوشی جاری رکھنا اس کا اس بات کا اظہار تھا کہ وہ کسی بھی حالت میں تمباکو نوشی سے باز نہیں آ سکتا۔

دوسری جانب اسکندریہ یونیورسٹی کے زیرانتظام اسپتال نے مریض کی سیگریٹ نوشی کے واقعے کی انکوائری شروع کی ہے۔

جامعہ کے میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر احمد عثمان کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے مریض کو ’ناریمن‘ اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کیا گیا۔ وارڈ میں لے جاتے ہوئے اس کی سگریٹ نوشی کی تصاویر سامنے آئیں۔ اس کا یہ طرز عمل بالکل ناقابل قبول ہے۔ اسپتال کے اندر سگریٹ نوشی قابل سزا جرم ہے۔