.

’شہد کی چادر‘، سعودی شہری ’گینز بک‘میں نام لکھوانے کے لیے کوشاں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کچھ عرصہ پیشتر سعودی عرب میں ایک مقامی شہری زھیر امین فطانی کی شہد کی مکھیوں میں ڈوبی تصاویر نے تہلکہ مچا دیا تھا۔ انہوں نے اپنا نام گینز بک میں لکھوانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔ وہ ایک بار پھر گینز بک میں نام لکھوانے کے لیے قسمت آزمائی کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس زھیر امین فطانی مکہ معظمہ میں شہد آرگنائزیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹر رکن ہیں۔ اس بار انہوں نے ذرا مختلف انداز میں شہد کی مکھیوں کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرتے ہوئے اپنے جسم پر شہد کی 100 کلو گرام وزنی چادر اوڑھنا چاہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر میں انہیں شہد کی 63.7 کلو گرام وزنی چادر میں ڈوبے دیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ عن قریب وہ اپنے جسم پر ایک سو کلو گرام شہد جمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے امین فطانی کا کہنا تھا کہ وہ 30 سال سے شہد کی مکھیوں میں رہنے کےتجربے سے گذر رہےہیں۔ میں شہد کی مکھیوں کو چھونے، انہیں پالنے، ان کے قریب جانے کو بہت پسند کرتا ہوں۔ میرے قصبے میں شہد کی مکھیوں 1500 چھتے ہیں۔ ان میں سے 500 چھتے نئے ہیں۔ میں شہروں کے دوروں کے دوران جازان، ابھا اور طائف میں شہد کی مکھیوں اور شہد کی تلاش کرتا رہا مگر شہد کی پیداوار کےحوالے سے تبوک کو سب سے موزوں پایا۔

ان کا کہنا ہے کہ میں نے شہد کی وزنی چادر کی تیاری کے لیے تبوک سے شہد اکھٹا کیا۔ اب میں اپنا نام گینز بک میں لکھوانا چاہتا ہوں۔ جب میں نے اپنے جسم پر ایک شہد کی چادر اوڑھ لی تو میرے پاؤں کی ہتھیلیوں میں تکلیف شروع ہوئی اور میں ایک قدم بھی اٹھانے کے قابل نہیں تھا، حتیٰ کہ سانس لینا بھی دشوار ہوگیا جس کے بعد میں نے ایک سو کلو گرام شہد کی چادر اوڑھنے کا فیصلہ موخر کردیا۔

فطانی کا کہنا تھا کہ مسلسل ایک گھنٹہ 20 منٹ تک شہد کی چادر اوڑھے کھڑے رہنے سے میرے پٹھے جواب دینے لگے۔

ایک سوال کے جواب میں فطانی کا کہنا تھا کہ قدرتی طورپر میرے جسم میں شہد کی مکھیوں کے ڈنگ کا اثر نہیں ہوتا۔ 49 کلو گرام شہد کے ساتھ کم سے کم تین لاکھ 43ہزار شہد کی مکھیوں ہوتی ہیں۔ اس دوران ہزاروں بار شہد کی مکھیوں نے میرے جسم کو ڈسا مگر اس سے میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ابھی تک گینز بک میں نام شامل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، تاہم مستقبل میں یہ بجربہ دوبارہ کروں گا۔ گذشتہ برس شعبان میں یہ کوشش درجہ حرارت میں زیادتی اور شہد کی مکھیوں کی ایک ملکہ کے فرار کی وجہ سے ناکام ہوگئی تھی۔