.

شام: اسد رجیم کے زیر قبضہ علاقوں میں 2011ء کے بعد مقامی حکومتوں کے پہلے انتخابات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی عمل داری والے علاقوں میں2011ء کے بعد مقامی حکومتوں کے پہلے انتخابات کے لیے اتوار کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی ہے کہ پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئی تھی اور یہ بارہ گھنٹے(شام سات بجے تک) جاری رہے گی۔پولنگ مراکز پر ووٹر مقامی انتظامی کونسلوں کے انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں۔

شام کے تمام صوبوں میں کونسلوں کی 18478 نشستوں کے لیے 40 ہزار سے زیادہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اپنے نشریے میں دارالحکومت دمشق ،ساحلی علاقوں طرطوس اور اللاذقیہ میں ووٹروں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے دکھایا ہے۔ٹی وی کی فوٹیج میں وہ پلاسٹک کے بکسوں میں اپنے ووٹ ڈالتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔

شامی فوج نے حالیہ مہینوں کے دوران میں روس کی فضائی اور زمینی مدد سے ملک کے دوتہائی علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔اس نے دمشق کے نواح اور شام کے جنوبی علاقے باغیوں اور دوسرےگروپوں سے واپس لے لیےہیں۔ان علاقوں میں بھی آج پولنگ متوقع تھی۔

مقامی کونسلوں کے گذشتہ انتخابات کے موقع پر نشستوں کی تعداد 17 ہزار کے لگ بھگ تھی لیکن اس مرتبہ بعض مزید دیہات کو مکمل بلدیہ کا درجہ دے دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی کونسلوں کے ارکان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

یہ کونسلیں میونسپل ( بلدیہ) کی سطح پر کام کرتی ہیں ۔ توقع ہے کہ ان کے نئے منتخب ہونے والے نمایندے اپنے پیش رو ارکان کی بہ نسبت زیادہ ذمے داریاں نبھائیں گے۔بالخصوص جنگ زدہ علاقوں میں تعمیر نو اور شہری ترقی کی ذمے داری بھی انھیں سونپی جائے گی۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ بلدیاتی انتخابات دسمبر2011ء میں منعقد ہوئے تھے۔ اس کے بعد 2014ء میں صدارتی انتخابات ہوئے تھے اور صدر بشار الاسد نے مزید سات سال کے لیے خود کو صدر منتخب کروا لیا تھا۔2016ء میں حکومت کے عمل داری والے علاقوں میں پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہوا تھا۔