.

مغربی کنارے میں امریکی پروفیسر اسرائیل کی حراست میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک خاتون وکیل کے مطابق اسرائیلی پولیس نے ایک امریکی یونیورسٹی پروفیسر کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا دعوی ہے کہ 66 سالہ فرینک رومانو نے مغربی کنارے کے گاؤں الخان الاحمر میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔

مذکورہ خاتون وکیل گیبی لاسکے نے ہفتے کے روز بتایا کہ رومانو کو بیت المقدس کی ایک جیل میں حراست میں رکھا گیا ہے اور پولیس نے گیبے کو آگاہ کیا ہے کہ امریکی پروفیسر کو پیر کے روز اسرائیل کی ایک فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

رومانو کو جن کے پاس بعض رپورٹوں کے مطابق فرانسیسی شہریت بھی ہے، جمعے کے روز الخان الاحمر کے گاؤں میں فلسطینی کارکنان کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق رومانو ایک بلڈوزر کے سامنے کھڑے ہو گئے تھے جو انہدام کا عمل سُست کرنے کے لیے قائم کی گئی رکاوٹوں کو ختم کر رہا تھا۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ شورش پیدا کرنے کے الزام میں تین افراد کو حراست میں لیا گیا۔

رومانو کو ابتدائی طور پر مغربی کنارے میں ایک پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا جہاں مختصر دورانیے کے لیے ان کی ملاقات Combatants for Peace نامی ایک اسرائیلی فلسطینی جماعت کے کارکنان سے ہوئی۔ جماعت کے ایک رکن ناحوم اولچک کے مطابق رومانو نے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے اور وہ اسرائیل کی جانب سے الخان الاحمر کو منہدم کرنے کا منصوبہ روکے جانے تک کچھ نہیں کھائیں گے۔ الخان الاحمر ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں 180 فلسطینی رہتے ہیں۔

امریکی پروفیسر فرینک رومانو فرانس میں Paris Nanterre University میں قانون، تاریخ، ادب اور فلسفہ پڑھاتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ امریکا اور فرانس میں وکالت کے پیشے سے بھی وابستہ ہیں۔