.

ایرانی وزیر خارجہ کی اپنے ہمنوا افراد کے ٹوئیٹر اکاؤنٹس کی بندش کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ایسے وقت میں جب کہ ایرانی حکام کئی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی عائد کر رہے ہیں، ایرانی عوام کو ٹوئیٹر وغیرہ پر آزادی اظہار سے روکا جا رہا ہے اور کارکنان اور اپوزیشن کے لوگوں کو گرفتاری اور خاموش کرائے جانے کا سامنا ہے ،،،، ایسے میں ایرانی وزیر خارجہ نے "حقیقی ایرانیوں" کے واسطے ٹوئیٹر پر پابندی کی مذمت کی ہے۔

محمد جواد ظریف نے اپنی ٹوئیٹ میں ٹوئیٹر ویب سائٹ پر الزام عائد کیا کہ وہ "حقیقی" ایرانیوں کے اکاؤنٹس کو بند کر رہا ہے جب کہ اسی دوران ایرانی حکومت کے مخالفین کے اکاؤنٹس کو جاری رکھنے کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ٹوئیٹر کے چیف ایگزیکٹو جیک ڈورسی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ استفسار بھی کیا کہ "البانیہ کے دارالحکومت تیرانا کے اُن اکاؤنٹس کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا مقصد حکمراں نظام کی تبدیلی ہے"۔

یاد رہے کہ جواد ظریف کا یہ تبصرہ فیس بک ، ٹوئیٹر اور بعض دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس کی جانب سے اُن سیکڑوں اکاؤنٹس کو حذف کر دینے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے جو گزشتہ ماہ اگست میں اجتماعی شکل میں ایرانی پروپیگنڈے کی کارروائی کے ساتھ مربوط تھے۔

ادھر کئی ایرانی کارکنان اور اپوزیشن کے افراد نے وزیر خارجہ جواد ظریف کے ٹال مٹول والے انداز اور پھندا پھینکنے والے اسلوب کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے ظریف کو یاد دلایا کہ ایران میں حکمراں نظام اپنے عوام کے لیے ٹوئیٹر کے استعمال پر پابندی لگا رہا ہے اور اپوزیشن کے متعدد افراد کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال رہا ہے۔ ایرانی حکام کی شکایت "مار کر رونے" والی مثال جیسی ہے۔ ٹوئیٹر پر ایک اپوزیشن کارکن نے تحریر کیا کہ "تمام لوگ جانتے ہیں کہ آپ کی حکومت ایران میں ٹوئیٹر پر پابندی لگا رہی ہے، ساری دنیا کو آپ کی وسیع منافقت کا بخوبی علم ہے!".

چند ہفتوں قبل عالمی سطح پر سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارمز نے ایران کے متعدد اکاؤنٹس، پیجز اور چینلز کو بلاک کر دیا تھا۔ یہ اقدام جھوٹی خبروں اور دہشت گردی پھیلانے والے پروپیگنڈے پر روک لگانے کی ایک کڑی تھی۔ اس دوران یوٹیوب پر ایرانی ریڈیو اور ٹی وی نیٹ ورک کے زیر انتظام 39 چینلوں کو روکا اور بلاک کیا گیا۔ علاوہ ازیں گوگل نے گوگل پلس میں 6 بلاگز اور 13 اکاؤنٹس کو بند کر دیا۔ فیس بک نے بحِ ایرانی حکمراں نظام کے ماتحت 562 پیجز کو بند کر دیا۔ ٹوئیٹر کی انتظامیہ نے تطہیر کے لیے پھیری جانے والی جھاڑو کے ذریعے 486 اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا جن کا مقصد مشرق وسطی، لاتینی امریکا، برطانیہ اور امریکا میں اپنے استعمال کنندگان کو گمراہ کرنا تھا۔