.

الحشد الشعبی عراقیوں کو یمن میں حوثیوں کے لیے لڑنے پر مجبور کر رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبے نینوی میں عرب قبائل کے ترجمان مزاحم الحویت نے شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے زیر انتظام خفیہ دفاتر کے وجود کا انکشاف کیا ہے جو دیالی صوبے اور نینوی کے میدانی علاقوں میں بسنے والے عرب سُنّیوں کو یمن میں لڑنے کے لیے اپنی صفوں میں شمولیت پر مجبور کرتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے الحویت نے بتایا کہ الحشد الشعبی کا بریگیڈ 30 سُنّی عربوں کو دو میں سے ایک آپشن اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ یا تو مالی رقوم کے عوض الحشد الشعبی کی صفوں میں شامل ہو جائیں اور یا پھر پہلا آپشن مسترد کرنے کی صورت میں اپنے اور اپنے گھر والوں پر داعش تنظیم سے تعلق کا الزام عائد کروانے کے لیے تیار رہیں۔

الحویت کے مطابق نوجوانوں کے الحشد میں شمولیت قبول کرنے کی صورت میں پہلی بار 9000 ڈالر کی رقم دی جائے گی جسکے بعد ماہانہ تنخواہ کا سلسلہ ہو گا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ الحشد نے نوجوانوں کے گھر والوں پر شرط عائد کی ہے کہ جنگ کے دوران ان کی اولاد کے مارے جانے کی صورت میں وہ کسی قسم کا معاوضہ طلب نہیں کریں گے۔

فنڈنگ کے حوالے سے الحویت نے واضح کیا کہ اس منصوبے کی فنڈنگ کے ذرائع جاننے کے واسطے تحقیقات جاری ہیں۔ بالخصوص جب کہ ایرانی معیشت پہلے ہی دم توڑ رہی ہے لہذا وہ اس طرح کے منصوبے کو سپورٹ نہیں کر سکتی۔ الحیوت کے مطابق الحشد الشعبی اپنی معمول کی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے تاجروں اور کاروباری شخصیات سے 2.5 لاکھ ڈالر تک "بھتّہ" وصول کر لیتے ہیں۔ الحویت کا کہنا ہے کہ عراقی تیل کی اسمگلنگ عراقی ملیشیاؤں کی فنڈنگ کا ایک اہم ذریعہ شمار کیا جاتا ہے اور ممکنہ طور پر یہ مذکورہ خفیہ دفاتر کی سرگرمیوں کی فنڈنگ کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔

قبائل کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ان افراد کو شام کی اراضی کے راستے لبنان پہنچایا جاتا ہے جہاں وہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی صفوں میں شامل ہو کر تربیت حاصل کرتے ہیں۔ بعد ازاں انہیں یمن میں جنگ کے محاذوں پر بھیج دیا جاتا ہے تا کہ حوثی ملیشیا میں شامل ہو سکیں۔ الحویت کے مطابق یہ تمام تر کوششیں حوثی ملیشیا کی سپورٹ کے واسطے ہے جس کو جنگجوؤں کی تعداد کے حوالے سے شدید قلت کا سامنا ہے اور وہ اجرتی قاتلوں کو طلب کرنے پر مجبور ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایران نے حوثیوں کے واسطے اپنی سپورٹ کو کبھی نہیں چُھپایا۔ الحویت کے مطابق عراق میں الحشد الشعبی کے مذکورہ خفیہ دفاتر کی نگرانی کے لیے ایرانی عناصر موجود ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ روز قبل الحشد الشعبی کی جانب سے ایران کی باسیج فورس کی طرز پر عراق کے جنوبی صوبے بصرہ میں "ریزرو موبیلائزیشن فورس" کے دفاتر کا افتتاح کیا گیا۔ یہ پیش رفت مشتعل عراقی مظاہرین کے ہاتھوں بصرہ میں ایرانی قونصل خانے کو آگ لگا دینے کے جواب میں سامنے آئی۔ البتہ عراقی حکومت کی جانب سے ان اقدامات پر سرکاری طور پر کوئی ردّ عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔