.

الحشد الشعبی کے ہادی العامری عراقی وزارت عظمی کی دوڑ سے دست بردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی پارلیمنٹ میں الفتح اتحاد کے سربراہ ہادی العامری (ایران نواز عراقی شیعہ ملیشیا کی اہم شخصیت) نے وزارت عظمی کے لیے اپنی نامزدگی واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔

منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں العامری نے اُمید ظاہر کی کہ ملک کے صدر اور وزیراعظم کا انتخاب جلد عمل میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ موافقت سے نامزد امیدوار سامنے لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم العامری نے کسی شخصیت کا نام نہیں بتایا۔

الفتح اتحاد کے سربراہ نے واضح کیا کہ وزارتی قلم دان حوالے کیے جانے سے متعلق شخصیات کے ناموں کے بارے میں جو کچھ زیر گردش آ رہا ہے وہ سب جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔

العامری نے باور کرایا کہ ملک میں شیعہ حلقے وزیراعظم کے منصب کے حوالے سے دست بردار نہیں ہوئے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ملک کی روایت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اولین تین مناصب عراق کی مختلف کمیونٹیز کے درمیان تقسیم ہونا چاہئیں۔

ہادی العامری کی دست برداری کے اعلان کے بعد ایسا نظر آ رہا ہے کہ عراق کے سابق نائب صدر عادل عبدالمہدی کے وزیراعظم بننے کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

عراق میں نئی حکومت کی تشکیل کی مشاورت سے قریب سیاسی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ زیادہ تر سیاسی اتحاد عادل عبدالمہدی کو وزارت عظمی کے منصب کے لیے نامزد کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق عبدالمہدی عافیت کے ساتھ "سیستانی" کے ویٹو کو عبور کر آئے ہیں اور پارلیمنٹ میں سب سے بڑے بلاک کے تعین کے بعد سرکاری طور پر اُن کے نام کا اعلان ہو سکتا ہے۔