.

امریکی لائبریری کتاب ’Fear‘ سے خوف زدہ، مفت نسخہ لینے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا میں ایک لائبریریکی انتظامیہ مشہور صحافی باب ووڈ ورڈز کی کتاب ’FEAR ۔ TRUMP IN WHITE HOUSE‘ سے خوف زدہ ہے اور اس نے کتاب کی مفت میں ملنے والی کاپیاں لینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کےمطابق سرکردہ امریکی صحافی کی موجودہ امریکی صدر کے بارے میں سامنے آنے والی کتاب میں لرزہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔ مگر دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی متعدد ٹویٹس اور ان کےحامیوں نے بیانات میں کتاب میں بیان کردہ باتوں کو من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

واشنگٹن ریاست کےعلاقے مورگان میں قائم لائبریری کی ڈائریکٹر ڈونا کروکر نے کہا کہ وہ باب ووڈ ورڈز کی کتاب لینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس علاقے کی کل آبادی 600 نفوس پر مشمتل ہے اور زیادہ تر لوگ ٹرمپ کے حامی ہیں۔ سنہ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں 450 افراد نے صد ٹرمپ کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے کروکر نے کہا کہ ہم اس جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتے۔ ٹرمپ کے بارے میں ہمارے پاس اور بھی کافی کتابیں موجود ہیں۔

تاہم سوشل میڈیا پر اس حوالے سے شہریوں کا سخت رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ بیرکلی سبرینگز کے ایک مقامی شہری نے ’فیس بک‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں لکھا کہ لائبریری کی انتظامیہ کا باب ووڈ ورڈ کی کتاب لینے سے انکار ناقابل قبول ہے۔ یہ اقدام ’ٖFear End 451‘ میں بیان کردہ کہانی کو حقیقی شکل دینے کی کوشش کرنا ہے جس میں یورپ میں قرون وسطیٰ میں کتابوں پر پابندیاں اور انہیں نذرآتش کرنے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

ایک مقامی شہری روب کیمبل نے مقامی لائبریری کو باب ووڈ ورڈ کی کتاب کا ایک نسخہ مفت دینے کی پیش کش کی مگر انتظامیہ نے لینے سے انکار کردیا۔

ریکارڈ ساز سیل

ادھر امریکی میڈیا کے مطابق باب ووڈ ورڈز کی کتاب ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہے۔ مارکیٹ میں آنے کے پہلے روز کتاب کی ساڑھے سات لاکھ کاپیاں فروخت ہو گئی تھیں۔