.

ایرانی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نئے معاہدے کی ضرورت ہے: امریکی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر برائے توانائی ریک بیری نے ایران کی معاندانہ سرگرمیوں، دہشت گردی اور خطےمیں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک نئے عالمی معاہدے کی ضرورت پرزور دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’ویانا‘ میں بین الاقوامی جوہری ایجنسی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب میں امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ ایران نے دہشت گردی کی پشت پناہی اور خطے میں مداخلت کی اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی ہے۔

انہوں نے سنہ 2015ء کو ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے سمجھوتے کو ’معیوب ڈیل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران سے کیے گئے معاہدے میں کئی عیب اور کم زوریاں تھیں، جس کی وجہ سے وہ ناکام ہوگیا۔ دوسری جانب معاہدے کے باوجود ایران کی بدسلوکی کا سلسلہ جاری ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ یہاں ’ویانا‘ سے جولائی میں ایک ایرانی سفارت کار پکڑا گیا جو فرانس میں ایک ریلی میں میں بم دھماکے کے لیے دھماکہ خیز مواد فراہم کرنے کی دہشت گردی میں ملوث تھا۔ اس کے علاوہ حال ہی میں امریکی وزارت انصاف نے گرفتار کیے گئے ایران کے لیے جاسوسی کرنے والے دو ایرانیوں کو حراست میں لیا۔

ریک بیرک کا کہنا تھا کہ ایران کی روش میں تبدیلی نہ آنے کی وجہ سے ہم تہران پر پابندیاں بحال کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایران نہ صرف اپنی جوہری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اس نے خطے میں عدم استحکام کی سازشین بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔

امریکی وزیر نے تہران کو جوہری ہتھیاروں اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحہ کےحصول سے روکنے کے لیے بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی دشمنانہ سرگرمیوں، جوہری اسلحہ کی تیاری ، دہشت گردی کی پشت پناہی اور خطے میں مداخلت کی پالیسی کی روک تھام کے لیے پوری دنیا کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تہران کے خلاف کام کرنا ہوگا۔