.

بیروت: رفیق حریری قتل کے ماسٹر مائنڈ کے نام سے سڑک موسوم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں عوامی حلقے پیر کے روز اُس وقت حیران ہو گئے جب دارالحکومت بیروت کے علاقے الغبیری میں ایک سڑک پر مصطفی بدرالدین کے نام کی تختی نظر آئی۔ بدرالدین کو لبنان کی خصوصی عدالت سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے جرم کا ماسٹر مائنڈ قرار دے چکی ہے۔ رفیق حریری 14 فروری 2005ء کو بیروت میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

الغبیری کی بلدیہ کی جانب سے اس موقع پر مذکورہ اقدام کو بعض لبنانیوں بالخصوص وزیراعظم سعد حریری کے حامیوں کی جانب سے اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ ہالینڈ کے شہر ہیگ میں جرائم کی بین الاقوامی عدالت ان دنوں رفیق حریری قتل سے متعلق مقدمے کی اختتامی کارروائیاں عمل میں لا رہی ہے۔

ادھر نگراں حکومت میں لبنانی وزیر داخلہ و بلدیات نہاد المشنوق ایسے کسی بھی فیصلے پر دستخط کرنے کی تردید کی ہے جس میں الغبیری کی بلدیہ کو مصطفی بدرالدین کے نام سے سڑک موسوم کرنے کی اجازت دی گئی۔

پیر کی شب سلسلہ وار ٹوئیٹس میں المشنوق نے باور کرایا کہ "وہ یہ نام دینے پر آمادہ نہیں ہیں اور الغبیری کی بلدیہ کا فیصلہ وزارت داخلہ کی جانب سے مسترد کیا جاتا ہے"۔

لبنانی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کے روز الغبیری کی بلدیہ کو ارسال کی جانے والی ایک تحریر میں سڑک پر مذکورہ نام کے بورڈز کو ہٹانے کا مطالبہ کرے گی۔

یاد رہے کہ لبنان میں خصوصی عدالت کی استغاثہ نے گزشتہ ہفتے رفیق حریری کے قتل کی براہ راست سیاسی ذمّے داری حزب اللہ تنظیم اور شامی حکومت پر عائد کی تھی تاہم کسی بھی رہ نما ذمّے داروں کو ملزم ٹھہرانے سے گریز کیا گیا۔

اگرچہ رفیق حریری کے قتل کے جرم میں ترجیحی طور پر مصطفی بدرالدین کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تاہم اسے صراحتا الزامات سے مستثنی کر دیا گیا کیوں کہ حزب اللہ کا یہ عسکری رہ نما 2016ء میں شام میں مارا جا چکا ہے۔