.

شامی حکومتی فورسز نے ہمارا طیارہ مار گرایا ، ذمّے دار اسرائیل ہے : روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت دفاع نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ روسی فوجی طیارہ شامی حکومت کی فورسز نے مار گرایا۔ وزارت کے بیان کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے دانستہ طور پر الاذقیہ میں "خطرناک" صورت حال پیدا کی جہاں روسی فوجی طیارہ لاپتہ ہوا۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے ہوابازوں نے روسی طیارے کو مجبور کر دیا کہ وہ شامی فضائی دفاعی نظام کی حدود میں آ جائے۔ علاوہ ازیں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے کارروائی کیے جانے سے ایک منٹ پہلے روس کو خبردار کیا۔ وزارت دفاع کے مطابق روسی طیارے کو خطرے کے دائرہ کار سے دور کرنے کے لیے وقت کافی نہ تھا۔

روس نے طیارے میں سوار 15 فوجیوں کی ہلاکت کا ذمّے دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔ روسی وزارت کا کہنا ہے کہ "فوجیوں نے اسرائیل کے غیر ذمّے دارانہ افعال کے سبب اپنی جانیں گنوائیں"۔

اس سے قبل روس کی وزارت دفاع نے منگل کے روز اپنے اعلان میں کہا تھا کہ روس کا ایک فوجی طیارہ جس میں 15 عسکری اہل کار سوار تھے، پیر کو رات گئے شام کے ساحل کے نزدیک بحیرہ روم کے اوپر پرواز کے دوران ریڈار کی اسکرین سے غائب ہو گیا۔ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے پیش آیا جب کہ اسی دوران شام کے شہر الاذقیہ کو اسرائیل کی جانب سے میزائل حملے کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ " ایل-20 طیارے کے عملے سے اُس وقت رابطہ منقطع ہوا جب وہ حمیمیم کے فضائی اڈّے کی جانب واپسی کے دوران شام کے ساحل سے 35 کلو میٹر کی دُوری پر بحیرہ روم کے اوپر محوِ پرواز تھا"۔

وزارت دفاع کے مطابق طیارے کے ریڈار اسکرین سے غائب ہونے کے وقت اسرائیل کے چار ایف – 16 طیارے شام کے صوبے لاذقیہ میں انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنا رہے تھے۔ لاذقیہ ملک کے شمال مغرب میں شامی صدر بشار الاسد کا گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب روسی خبر رساں ایجنسی "ریا نووسٹی" نے ایک عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ شامی فضائی دفاعی نظام نے اسرائیلی حملے کے جواب میں فائرنگ کی۔

روسی وزارت دفاع کا یہ بھی کہنا ہے کہ "طیارے سے جس وقت رابطہ منقطع ہوا اسی دوران ہمارے ریڈارز نے مذکورہ علاقے میں موجود فرانسیسی لڑاکا بحری جہاز پر سے میزائل داغے جانے کا پتہ چلایا"۔

ادھر پیرس نے فوری طور پر روس کے الزام کی تردید کر دی ہے۔ فرانسیسی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "فرانسیسی افواج اس حملے میں کسی طور بھی ملوث ہونے کی تردید کرتی ہیں"۔

شامی حکومت نے پیر کے روز ایک بحری میزائل حملے کی تصدیق کی جس کے دوران ساحلی شہر لاذقیہ میں متعدد ٹھکانوں کے علاوہ حمیمیم کے فوجی اڈّے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

شامی حکومت کے زیر انتظام میڈیا کے مطابق لاذقیہ میں ٹکنیکل انڈسٹریز کارپوریشن کو نشانہ بنانے والے میزائلوں اور ڈرون طیاروں پر روک لگا دی گئی اور اس دوران میزائل شکن نظام نے ان میں سے کئی کو مار گرایا۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق حملے میں لاذقیہ میں ٹکنیکل انڈسٹریز کارپوریشن کے گوداموں میں گولہ بارود کے ڈپوؤں کو تباہ کر دیا گیا۔

ادھر اسرائیلی فوج نے شامی ٹھکانوں پر اسرائیلی فضائی حملے کے دوران طیارے کے لاپتہ ہونے سے متعلق روسی وزارت دفاع کے اعلان پر تبصرے سے انکار کر دیا۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان نے پیر کی شب ایک بیان میں کہا کہ "ہم باہر سے آنے والی خبروں پر تبصرہ نہیں کرتے"۔ ترجمان نے اپنی قیادت کے ساتھ اس معاملے پر بحث کے لیے مہلت طلب کر لی۔

دوسری جانب ایک امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ امریکا یہ سمجھتا ہے کہ شام حکومت کی طیارہ شکن توپ نے غیر دانستہ طور پر روسی طیارے کو مار گرایا ، جس کے بارے میں روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ پیر کی شب بحیرہ روم کے اوپر "لاپتہ" ہو گیا۔ امریکی عہدے دار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ امریکا کے نزدیک شامی حکومت کے دفاعی نظام نے اسرائیلی میزائلوں کا راستہ روکنے کے دوران غلطی سے روسی طیارہ مار گرایا۔