.

شام میں لاذقیہ پر اسرائیلی میزائل حملہ ، بحیرہ روم کے اوپر روس کا فوجی طیارہ لاپتہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت دفاع کے اعلان کے مطابق روس کا ایک فوجی طیارہ جس میں 14 عسکری اہل کار سوار تھے، پیر کو رات گئے شام کے ساحل کے نزدیک بحیرہ روم کے اوپر پرواز کے دوران ریڈار کی اسکرین سے غائب ہو گیا۔ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے پیش آیا جب کہ اسی دوران شام کے شہر لاذقیہ کو اسرائیل کی جانب سے میزائل حملے کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

منگل کے روز جاری بیان میں روسی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ " ایل-20 طیارے کے عملے سے اُس وقت رابطہ منقطع ہوا جب وہ حمیمیم کے فضائی اڈّے کی جانب واپسی کے دوران شام کے ساحل سے 35 کلو میٹر کی دُوری پر بحیرہ روم کے اوپر محوِ پرواز تھا"۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی طیارے کے عملے کے انجام کے بارے میں ابھی تک کوئی علم نہیں اور طیارے کی تلاش جاری ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق طیارے کے ریڈار اسکرین سے غائب ہونے کے وقت اسرائیل کے چار ایف – 16 طیارے شام کے صوبے لاذقیہ میں انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنا رہے تھے۔ لاذقیہ ملک کے شمال مغرب میں شامی صدر بشار الاسد کا گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب روسی خبر رساں ایجنسی "ریا نووسٹی" نے ایک عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ شامی فضائی دفاعی نظام نے اسرائیلی حملے کے جواب میں فائرنگ کی۔

روسی وزارت دفاع کا یہ بھی کہنا ہے کہ "طیارے سے جس وقت رابطہ منقطع ہوا اسی دوران ہمارے ریڈارز نے مذکورہ علاقے میں موجود فرانسیسی لڑاکا بحری جہاز پر سے میزائل داغے جانے کا پتہ چلایا"۔

ادھر پیرس نے فوری طور پر روس کے الزام کی تردید کر دی ہے۔ فرانسیسی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "فرانسیسی افواج اس حملے میں کسی طور بھی ملوث ہونے کی تردید کرتی ہیں"۔

شامی حکومت نے پیر کے روز ایک بحری میزائل حملے کی تصدیق کی جس کے دوران ساحلی شہر لاذقیہ میں متعدد ٹھکانوں کے علاوہ حمیمیم کے فوجی اڈّے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

شامی حکومت کے زیر انتظام میڈیا کے مطابق لاذقیہ میں ٹکنیکل انڈسٹریز کارپوریشن کو نشانہ بنانے والے میزائلوں اور ڈرون طیاروں پر روک لگا دی گئی اور اس دوران میزائل شکن نظام نے ان میں سے کئی کو مار گرایا۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق حملے میں لاذقیہ میں ٹکنیکل انڈسٹریز کارپوریشن کے گوداموں میں گولہ بارود کے ڈپوؤں کو تباہ کر دیا گیا۔

ادھر اسرائیلی فوج نے شامی ٹھکانوں پر اسرائیلی فضائی حملے کے دوران طیارے کے لاپتہ ہونے سے متعلق روسی وزارت دفاع کے اعلان پر تبصرے سے انکار کر دیا۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان نے پیر کی شب ایک بیان میں کہا کہ "ہم باہر سے آنے والی خبروں پر تبصرہ نہیں کرتے"۔ ترجمان نے اپنی قیادت کے ساتھ اس معاملے پر بحث کے لیے مہلت طلب کر لی۔

دوسری جانب ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکا یہ سمجھتا ہے کہ شام حکومت کی طیارہ شکن توپ نے غیر دانستہ طور پر روسی طیارے کو مار گرایا ، جس کے بارے میں روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ پیر کی شب بحیرہ روم کے اوپر "لاپتہ" ہو گیا۔ امریکی عہدے دار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ امریکا کے نزدیک شامی حکومت کے دفاعی نظام نے اسرائیلی میزائلوں کا راستہ روکنے کے دوران غلطی سے روسی طیارہ مار گرایا۔