.

پاسداران انقلاب کا انٹیلی جنس چیف ’غیر متوازن’ شخص ہے: احمدی نژاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے سپاہ پاسداران انقلاب کےانٹیلی جنس ادارے کے سربراہ حسین طائب کو ’غیرمتوازن‘ شخص قرار دیتے ہوئے ان پر اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

’ٹیلی گرام‘ پر نشر ایک بیان میں سابق صدر احمدی نژاد نے کہا کہ انٹیلی جنس اداروں کے زیرانتظام خفیہ حراستی مراکز’غیرقانونی‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میں ایران کا صدر تھا تو میں نے حسین طائب کو اس عہدے پر فائز کرنے کی مخالفت کی تھی۔

احمدی نژاد نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ انٹیلی جنس چیف ایک غیر متوازن شخص ہے۔ اگر اسے اس عہدے پر برقرار رکھا گیا تو وہ پورے سسٹم کو ادھیڑ کر رکھ دے گا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ حسین طائب سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے دور حکومت میں انٹیلی جنس کی وزارت میں معاون خصوصی تھا، مگر اس نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا۔ وہ ادارے کے عہدیداروں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔

خیال رہے کہ حسین طائب ان ایرانی شخصیات میں شامل ہیں جن پر یورپی یونین نے پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ ان پرانسانی حقوق کی سنگین پامالیوں ، حراستی مراکز میں قیدیوں کو اذیتیں دینےاور سیاسی کارکنوں کو جیلوں میں ڈالنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔