.

’سائنسدان کی ذہانت نے مصر اور اسرائیل میں جنگ چھیڑ دی تھی‘

محمود یوسف سعادہ کی صاحبزادی کے والد بارے چونکا دینے والے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنہ 1973ء کواسرائیل اور مصر کے درمیان ہونے والی جنگ کا محرک ایک مصری سائنسدان ڈاکٹر محمود یوسف سعادہ تھے۔ اگر وہ نہ ہوتے تو شاید مصر اور اسرائیل کے درمیان جنگ بھی نہ ہوتی۔

یہ حیران کن انکشاف مصری سائنسدان ڈاکٹر محمود یوسف سعادہ کی صاحب زادی ڈاکٹر سعاد محمود سعادہ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے گفتگو کےدوران ایک انٹرویو میں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ سنہ 1973ء کو جب صدر انور سادات صہیونی ریاست کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرچکے تو اچانک انہیں عسکری قیادت کی طرف سے بتایا گیا کہ مصر کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے میزائلوں کے لیے مختص ایندھن زاید المیعاد ہوچکا ہے جسے دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ سنہ 1972ء کو مصری صدر انور سادات نے ایک جنونی فیصلے کے تحت سوویت یونین کے ساتھ بھی تعلقات بگاڑ لیے تھے۔ اس لیےسوویت یونین کی جانب سے میزائلوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی سپلائی بند ہوگئی تھی۔ جب صدر انور سادات کو بتایا گیا کہ میزائلوں کو چالو کرنے کے لیے ایندھن موجود نہیں تو وہ بہت پریشان ہوئے اور قریب تھا کہ جنگ ٹل جاتی، مگر ایک 35 سالہ سائنسدان محمود یوسف سعادہ نے مصری حکومت اور فوج کی مدد کی ناکارہ ہونے والے ایندھن کو دوبارہ کارامد بنایا اور ساتھ ہی خام تیل سے میزایلوں کے لیے ایندھن تیار کیا گیا۔

غیرمعمولی ذہین سائنسدان

جون سنہ 1973ء کو مصری حکومت نے فوج سے اسرائیل پر چڑھائی کے لیے مشورہ کیا۔ ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے کہ آیا میزائلوں کو درکار ایندھن کی کمی کیسے پوری کی جائے؟۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ مسئلہ ایک 35 سالہ سائنسدان محمود یوسف سعادہ حل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ صدر کی طرف سے انہیں خصوصی گاڑی بھجوا کرمنگوایا۔ انہوں نے اپنی غیرمعمولی ذہانت کے ذریعے چند منٹ کے اندر اندر مسئلے کا حل بتا دیا۔ اس طرح صدر سادات اور مصری فوج کو درپیش ایک بڑی پریشانی کا حل نکل آیا۔

ایندھن کی کمی کیسے پوری کی گئی

ماہر آثار قدیمہ اور ڈاکٹر محمود یوسف سعادہ کی صاحبزادی ڈاکٹرسعاد محمود سعادہ نے بتایا کہ میرے والد نے مصر کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر میزائلوں کو درپیش ایندھن کی کمی کا آسان حل نکال لیا۔ انہوں نے استعمال شدہ ایندھن کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا اس کے علاہ خام تیل سے بھی بھاری مقدار میں ایندھن تیار کیا گیا۔ اس طرح مصر کو درپیش ایندھن کی کمی دور ہوگئی اور مصر نے یوسف سعادہ کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف جنگ لڑی اور اس میں فتح بھی حاصل کی تھی۔

ڈاکٹر سعاد کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی کوششوں سے مصر ناکارہ ہونے والے ایندھن میں سے 45 ٹن ایندھن تیار کرنے میں کامیاب رہے۔ اس کے بعد اس ایندھن سے میزائل کا تجربہ کیا گیا جو کامیاب رہا۔

حشرات الارض کا خاتمہ

ڈاکٹر سعاد نے بتایا کہ اس کے والد پہلے کیمیائی صنعت کے شعبے سے وابستہ تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ الٹراساؤنڈ پر بھی کام کرتے۔ انہوں نے مصری حکام کو درپیش ایک اور مسئلے کا بھی حل نکالا۔ مصری محکمہ زراعت کو کھیتوں میں حشرات الارض اور چوہوں کے عذاب کا سامنا تھا جو فصلیں تباہ برباد کردیتے۔ کسانوں اور حکومت کے پاس ان سے نجات کا کوئی جادوئی حل نہ تھا۔ ڈاکٹرمحمود یوسف سعادہ نےاس مسئلے کا بھی حل نکالا۔ انہوں نے الٹراؤ سائونڈ لہروں کی مدد سے چوہوں کا خاتمہ کیا۔

ڈاکٹر محمود یوسف سعادہ کا شمار مصر کے مشاہیر میں ہوتا ہے۔ وہ سنہ 2011ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ انہیں سرکاری اعزاز واکرام کےساتھ سپرد خاک کیا گیا۔