.

یمن کے سابق صدر علی صالح کے قتل سے متعلق نئی تفصیلات ، قاتل کی شناخت کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باخبر ذرائع نے سابق صدر علی عبداللہ صالح اور ان کے ساتھی عارف الزوکان کے قاتل کے حوالے سے تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ دونوں شخصیات کو دسمبر 2017ء میں دارالحکومت صنعاء میں قتل کر دیا گیا تھا۔

عربی ویب سائٹ "المشھد اليمني" نے مذکورہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ علی صالح اور الزوکا پر فائرنگ کرنے والے حوثی رہ نما کا نام ابو الکرار الوشلی ہے جو حوثیوں اور صالح کے درمیان وساطت کاروں میں سے تھا۔

ذرائع نے واضح کیا کہ قتل کی کارروائی صالح کے گھر سے 100 میٹر کی دُوری پر روسی نوعیت کے پستول کے ذریعے کی گئی ۔ صالح اپنی گاڑی سے باہر نکلے تو ساتھ والی وساطت کاروں کی گاڑی میں سوار حوثی رہ نما نے سابق صدر اور ان کے ساتھی کو گولیاں مار دیں۔ اس سے قبل صالح کو باغی حوثی ملیشیا کے سرکاری ترجمان محمد عبدالسلام کی جانب سے فون کال موصول ہوئی تھی۔

ذرائع کے مطابق سنحان کے علاقے میں مقتول حالت میں صالح کی تصاویر دکھانے کا حکم حوثی ملیشیا کے سرغنے عبدالملک الحوثی نے دیا تھا تا کہ سابق صدر کی موت وہاں واقع ہونے کو مشہور کر کے سنحان کے علاقے اور اس کے قبیلے کے لوگوں میں دہشت پھیلائی جا سکے۔

علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے ایک رہ نما یاسر الیمانین نے روسی خبر رساں ایجنسی "اسپٹنک" کے ساتھ گفتگو میں حوثیوں کی جانب سے سابق صدر کی سنحان میں موت کی کہانی کی تردید کی تھی۔ الیمانین نے انکشاف کیا تھا کہ سابق صدر اور ان کے ساتھی کو صنعاء کے علاقے الکمیم میں علی عبداللہ صالح کے گھر کے نزدیک موت کے گھاٹ اتارا گیا۔