.

مصر: علاء اور جمال مبارک کی گرفتاری کا حکم دینے والے جج کو ہٹانے کی درخواست منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک کے دونوں بیٹوں علاء اور جمال مبار ک کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتاری کا حکم دینے والے جج کو ہٹانے کے لیے دائرکردہ درخواست منظور کر لی ہے۔یہ درخواست وکیل صفائی نے دائر کی ہے اور فوری طو ر پر عدالت کے اس فیصلے کی قانونی بنیاد معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

قاہرہ کی ایک عدالت کے جج احمد ابو الفتوح نے گذشتہ ہفتے کے روز علاء اور جمال کو اسٹاک مارکیٹ میں مبیّنہ اتار چڑھاؤ کے الزام میں گرفتار کر نے کا حکم دیا تھا۔سرکاری استغاثہ نے ان دونوں بھائیوں سمیت پانچ افراد پر اپنی فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے بعض بنکوں کے حصص کی خریدار ی کا الزام عاید کیا تھا اور انھوں نے اس سے متعلق سمجھوتوں سے اسٹاک مارکیٹ کو آگاہ نہیں کیا تھا۔

یہ پانچوں افراد گذشتہ ہفتے کے روز قاہرہ میں فوجداری عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران میں حاضر تھے اور جج کے حکم پر وہیں انھیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔جج نے اس مقدمے کی مزید سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کردی تھی۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا علاء اور جمال مبارک کی رہائی کے لیے اب قانونی کارروائی شروع کی جائے گی یا نہیں ۔

واضح رہے کہ جمال مبارک اپنے والد حسنی مبارک کے دورِ صدارت میں حکمراں جماعت کی ایک اہم کمیٹی کے سربراہ رہے تھے اور انھیں والد کا سیاسی جانشین خیال کیا جاتا تھا۔ان کے بڑے بھائی علاء مبارک سیاست سے دور رہے تھے لیکن ان پر والد کے اثر ورسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے بھاری دولت کمانے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔

انھیں2011ء میں حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد متعدد مرتبہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد گرفتار کیا جاتا رہا تھا لیکن تین سال قبل انھیں جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔ان سے دو سال کے بعد 2017ء میں ان کے والد حسنی مبارک کو بھی جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

سابق صدر اور ان کے دونوں بیٹوں کو مئی 2015ء میں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں تین ،تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ان پر قومی خزانے سے ایک کروڑ یورو ( ایک کروڑ پندرہ لاکھ ڈالرز) کی رقم صدارتی محل کی تزئین و آرائش پر اڑانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔تاہم انھیں جب یہ سزا سنائی گئی تھی، اس وقت تک وہ قید کی یہ مدت جیل میں پوری کر چکے تھے۔