.

’سوچی‘ معاہدہ ادلب میں لاکھوں افراد کی زندگیاں بچانے کا سبب بنے گا: گوٹیرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے روس اور ترکی کے درمیان شام کے شہر ادلب میں فوری جنگ نہ کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی اور روس کی روسی شہر سوچی میں ہونے والی ملاقات اور معاہدہ ادلب کے30 لاکھ افراد کو انسانی المیے سے بچانے میں مدد دے گا۔

اقوام متحدہ کےنیویارک میں قائم صدر دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں گوٹیرس کا کہنا تھا کہ پوری عالمی برادری ادلب میں جنگ سے بچنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ ادلب میں فوری جنگ شروع ہوجاتی تو اس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق تھے۔

انہوں نے ترک صدر طیب ایردوآن کی ادلب میں جنگ روکنے کی مساعی کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ روسی شہر سوچی میں صدر ایردوآن اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میرپوتین کے درمیان معاہدہ تین ملین لوگوں کو تباہی سے بچائے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے روسی صدر ولادی میر پوتین سے سوچی میں ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں ادلبب میں محفوظ زون کےقیام پر اتفاق کیا گیا تھا تاکہ ادلب میں اعتدال پسند اپوزیشن اور عسکریت پسندوں کو ایک دوسرے سے الگ الگ کیا جاسکے۔ عالمی سطح پر ادلب کے حوالے سے ترکی اور روس کی اس کوشش کو سراہا گیا تھا۔