.

حوثی یمن کے جنگ زدہ عوام کی امداد لوٹ رہے ہیں: شاہ سلمان ریلیف مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں امدادی کاموں میں سرگرم شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے جنرل سپروائزر عبداللہ الربیعہ نے کہا ہے کہ ہم یمن کے بیشتر علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں اور کامیابی کے ساتھ امدادی آپریشن جاری ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عرب اتحاد یمن کے ساحلی علاقے الحدیدہ میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کو ہرممکن مدد فراہم کررہا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں متحدہ عرب امارات کے معاون وزیر مملکت برائے خارجہ وعالمی امور سلطان الشامسی، ڈائریکٹر سول آپریشنز عبداللہ بن دخیل الحبابی اور دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

اس موقع پر الربیعہ نے الزام عاید کیا کہ حوثی باغی یمنی عوام کے لیے آنے والی امداد کی لوٹ مار میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2015ء اور 2017ء کے درمیان حوثیوں نے 65 امدادی کشتیوں، 124 امدادی قافلوں اور 628 امدادی ٹرک لوٹ لیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عرب اتحاد نے 19 بحری جہازوں کو 2 لاکھ ٹن پٹرولیم مصنوعات الحدیدہ لے جانے کی اجازت دی۔ حوثیوں کی طرف سے تیل بردار جہازوں کو 26 دنوں تک روکے رکھا گیا۔

الربیعہ کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان ریلیف مرکز کی طرف سے 21 ہزار کھانے کے پیکٹ تقسیم کیے گئے۔ شاہ سلمان ریلیف مرکز اس وقت یمن میں جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے ایک کروڑ 76 لاکھ ڈالر کی خوراک کا انتظام کررہا ہے۔اس کےعلاوہ فوری طورپر 10ملین ڈالر کے ہنگامی پیکج پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

85 ملین ڈالر کی اماراتی امداد

پریس کانفرنس سے خطاب میں متحدہ عرب امارات کے معاون وزیر برائے خارجہ عالمی امور سلطان الشامسی نے کہا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کی مدد کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب یمن میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نافذ کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حوثی باغی یمن میں بارودی سرنگیں بچھا کر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہےہیں۔

الشامسی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں امارات کی طرف سے یمن کے لیے چار ارب ڈالر کی ادماد فراہم کی گئی۔ پچھلے تین ماہ میں امارات نے الحدیدہ میں جنگ کے متاثرین کے لیے 85 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی۔