.

لیبیا : طرابلس میں شدید ترین جھڑپیں ، حکومت نے مدد کی اپیل کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں جمعے کے روز ایک بار پھر جھڑپوں کا آغاز ہو گیا۔ ذرائع نے العربیہ کو باور کرایا ہے کہ یہ پُر تشدد واقعات کی حالیہ لہر میں اب تک کی شدید ترین جھڑپیں ہیں۔

دوسری جانب جھڑپوں کو روکنے سے قاصر قومی وفاق کی حکومت نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ جنگ کو روکنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے زیادہ پُر عزم اقدامات کیے جائیں اور سلامتی کونسل کے سامنے لیبیا میں خون ریز واقعات کی حقیقت آشکارا کی جائے۔ جمعے کے روز حکومت کی صدارتی کونسل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ "کونسل لیبیا کے شہریوں اور ان کی املاک پر حملوں، تشدد اور دہشت گردی کی تمام تر کارروائیوں کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔ کونسل ملک کے تمام شہروں میں میئروں، مشائخ اور عمائدین سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ الزاویہ شہر میں فائر بندی کے معاہدے پر عمل درامد کے لیے مزید کوششیں کریں اور تمام اطراف پر اس کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالیں۔

ادھر لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ طرابلس میں متحرک مسلح جماعتوں کے ساتھ لیبیا کی فوج کا کسی بھی قسم کا کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے یہ بات ملک کے مشرق میں العواقیر قبیلے اور دیگر قبائل کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ حفتر کے مطابق طرابلس کی سمت فوج کی حرکت مناسب وقت پر اور صحیح صورت میں سامنے آئے گی۔ انہوں نے باور کرایا کہ قانون بلا تفریق ہر کسی کا تعاقب کرے گا۔

لیبیا کی وفاق کی حکومت میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد درجنوں ہو چکی ہے اور جھڑپیں جاری رہنے کے سبب اس تعداد کے بڑھنے کا قوی امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق جھڑپوں کے علاقوں سے 300 کے قریب خاندان نقل مکانی کر گئے ہیں۔

واضح رہے کہ وفاق کی حکومت ابھی تک متحارب ملیشیاؤں کو لڑائی روک دینے اور فائر بندی کے اُس معاہدے پر کاربند رہنے پر مجبور کرنے سے قاصر ہے جس پر اقوام متحدہ کی سرپرستی میں 6 ستمبر کو دستخط کیے گئے تھے۔