.

حماس اور اسرائیل کے درمیان طویل جنگ بندی کی کوشش ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم ’حماس‘ اور اسرائیل کے درمیان غزہ کے علاقے میں طویل المدت جنگ بندی کے لیے مصر کی زیرنگرانی جاری کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مصر کے ذریعے غزہ میں طویل جنگ بندی کے بارے میں بالواسطہ بات چیت ختم کردی گئی ہے۔

حماس نے غزہ میں جنگ بندی میں ناکامی کا الزام فلسطینی اتھارٹی پر عاید کیا ہے جو حماس اور اسرائیل کے درمیان بات چیت کی شدت کے ساتھ مخالفت کرتی رہی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی کوششوں میں ناکامی کے بعد غزہ میں احتجاج کی شدت میں اضافہ اور غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر نئےمقامات پر بھی مظاہرے کیے جائیں گے۔

قبل ازیں تحریک ’فتح‘ نے حماس پر اسرائیل کے ساتھ ساز باز اور حق واپسی سے انحراف کا الزام عاید کیا تھا۔

جمعہ کو فتح کی طرف سے جاری کیےگئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ حماس نے ٹرمپ انتظامیہ اور نیتن یاھو کی حکومت کو پیغام بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر غزہ کو طویل المدت کے لیے حماس کے کنٹرول میں رہنے دیا جائے تو حماس ڈیل قبول کرسکتی ہے۔ تحریک ’فتح‘ کے بہ قول حماس کا یہ طرز عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی قیمت پر ہے کیونکہ فتح چار جون 1967ء سے پہلے والی پوزیشن پر فلسطینی ریاست کا قیام ، بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت بنانے اور پناہ گزینوں کے حق واپسی کے لیے جدو جہد کر رہی ہے۔

تحریک فتح نے الزام عاید کیا کہ حماس کی قیادت صدر محمود عباس کے خلاف منظم اور شر انگیز مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ حماس کے اقدامات اور بیانات یاسرعرفات کے دور میں ہونے والی کارروائیوں کی نئی شکل ہیں۔