.

روس آئندہ دو ہفتوں میں S-300 میزائل سسٹم شام کے حوالے کر دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر دفاع سرگئی شوئگو نے پیر کے روز ایک اعلان میں کہا ہے کہ ماسکو دو ہفتوں کے دوران فضائی دفاع کا "S-300" میزائل سسٹم شام کے حوالے کر دے گا۔

یہ اعلان گزشتہ ہفتے روس کے ایک L-20 فوجی طیارے کے گرائے جانے کے بعد سامنے آیا۔

روسی میڈیا کے مطابق شوئگو نے ایک بار پھر اسرائیل کو روسی طیارے کے گرائے جانے کا ذمّے دار ٹھہرایا۔ ایسا نظر آتا ہے کہ میزائل سسٹم کی حوالگی اسرائیل کے لیے ایک پیغام ہو گا۔ اسرائیل کے ایک وفد نے اس موضوع کے حوالے سے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ماسکو کا دورہ بھی کیا تھا۔

روسی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ "شام کی سرحد کے نزدیک بحیرہ روم کے اوپر اُن فورسز کے تمام ریڈارز اور رابطے کے آلات کو جام کر دیا جائے گا جو شامی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گی۔ اس سلسلے میں Electromagnetic interference کا استعمال کر کے مصنوعی سیاروں اور ڈرون جاسوس طیاروں کو معطل کیا جائے گا"۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ جدید سسٹم اسرائیلی تحفظات کی وجہ سے اس سے قبل حوالے نہیں کیا گیا۔ یہ سسٹم 250 کلو میٹر سے زیادہ دُوری پر موجود کسی بھی طیارے کو نشانہ بنانے اور فضا میں ایک ہی وقت میں کئی اہداف پر حملے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روسی فوجی طیارے کے حالیہ حادثے میں 15 عسکری اہل کار ہلاک ہو گئے۔ وزیر دفاع سرگئی شوئگو نے زور دے کر بتایا کہ اسرائیلی فوج نے شام پر فضائی حملوں سے صرف ایک منٹ قبل ہاٹ لائن کے ذریعے روسی جانب کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔

روسی فوجی ترجمان نے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے نتائج پیش کیے۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ طیارہ 17 ستمبر کو غلطی سے شام کے فضائی دفاعی سسٹم کے میزائل کا نشانہ بنا۔

ماسکو نے اسرائیلی ہوابازوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے روسی فوجی طیارے کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ اس امر نے شامی فضائی دفاعی سسٹم S-200 کو مجبور کر دیا کہ وہ ہدف کے طور پر روسی طیارے کے راستے میں رخنہ ڈالے۔