.

غزہ :اقوام متحدہ ایجنسی کے فلسطینی ملازمین کی جبری برطرفیوں کے خلاف ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں اقوام متحد ہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کی امدادی ایجنسی اُنرو ا کے ہزاروں ملازمین نے جبری برطرفیوں اور امریکی امداد کی کٹوتی کے خلاف ہڑتال کردی ہے۔

اُنروا کے ملازمین کی لیبر یونین کی اپیل پر غزہ میں سوموار کو ایک روزہ ہڑتال کے دوران میں ڈھائی سو سے زیادہ اسکولوں کے علاوہ طبی اور امدادی تقسیم کے مراکز بھی بند ہیں۔ غزہ شہر میں اُنروا کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر اس کے ملازمین نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

لیبر یونین نے برطرف کیے گئے ملازمین کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے ۔اس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کے علاوہ مزید اقدامات بھی کرسکتے ہیں۔یونین کی ڈپٹی چئیرمین امل البطش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہڑتال اُنروا کی انتظامیہ کی جانب سے ملازمین کے مطالبات پر کان نہ دھرنے کے ردعمل میں کی جارہی ہے۔اس کو ملازمین کے مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے‘‘۔

اُنروا کے ترجمان کرس گونیس نے مزدور یونین کی اس ہڑتال پر افسوس کا اظہا ر کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ ہمیں ایسے کسی اقدام پر افسوس ہے جس سے مہاجرین کو ایجنسی کی جانب سے مہیا کی جانے والی خدمات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہوں۔بالخصوص غزہ ایسی جگہ پر جہاں ایک عشرے سے ناکا بندی جاری ہے اور اس سے مہاجرین نے کافی مصائب جھیلے ہیں‘‘۔

اُنروا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مالی امداد میں کٹوتی کے بعد اسامیوں اور خدمات میں تحدید ناگزیر ہوچکی ہے۔ امریکا فلسطینی مہاجرین کو بنیادی شہری سہولیات مہیا کرنے کی ذمے دار اس ایجنسی کو 35 کروڑ ڈالرز سالانہ امداد کی شکل میں دے رہا تھا لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال کے اوائل سے یہ تمام کی تمام رقم بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس رقم کو اب اسرائیل کی امداد یا دوسرے منصوبوں کے لیے مختص کردیا ہے۔

امریکی صدر کے فیصلے کے بعد اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی مالی مشکلات سے دوچار ہوگئی ہے اور اس نے غزہ اور مغربی کنارے میں ڈھائی سو اسامیاں ختم کرنے اور پانچ سو سے زیادہ کل وقتی ملازمین کو جزوقتی قرار دینے کا اعلان کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اُنروا گذشتہ کئی عشروں سے پچاس لاکھ سے زیادہ فلسطینی مہاجرین کو خوراک کی شکل میں امداد مہیا کر رہی ہے اور تیس لاکھ کے لگ بھگ فلسطینیوں کو تعلیم اور صحت سمیت مختلف شہری خدمات مہیا کررہی ہے۔غزہ کی پٹی میں مقیم قریباً 80 فی صد فلسطینی اس ایجنسی کی امداد کے اہل ہیں ۔

اسرائیل کے محاصرہ زدہ اس فلسطینی علاقے میں اُنروا کے ملازمین کی تعداد قریباً تیرہ ہزار ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر انھیں بے روزگار کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو ان کے اہلِ خانہ نانِ جویں کو ترس جائیں گے اور انھیں جان کے لالے پڑ جائیں گے۔غزہ کی پٹی میں اُنروا کے تحت اسکولوں میں دو لاکھ سے زیادہ فلسطینی بچے زیر تعلیم ہیں۔