.

لڑائی میں جھونکنے کے لیے حوثیوں نے 6 ہزار یمنی بچوں کو بھرتی کیا : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق سے متعلق ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں بالخصوص قانونی لحاظ سے کم عمر اسکول طلبہ کی بھرتی اور انہیں لڑائی کے محاذوں میں جھونک دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ عمل باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں روز مرہ زندگی کا حصّہ بن چکا ہے۔

یہ رپورٹ (Yemen Coalition for Monitoring Human Rights Violations (YCMHRV کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا نے گزشتہ چار برسوں کے دوران اسکولوں کے 6172 طلبہ کو بھرتی کیا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بعض بچوں کو اسکول کی کلاسوں کے اندر سے لے کر عسکری تربیت میں شامل کر لیا گیا جو کہ ان کی جسمانی اور ذہنی استعداد سے اعلی سطح کی تھی۔ حوثی ملیشیا کی صفوں میں بھرتی کیے جانے والے بچوں کے خلاف جسمانی اور جنسی پامالیوں کا بھی ارتکاب کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ان کا ذکر کرنا دشوار ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن کے صوبوں میں تعز پہلے نمبر پر رہا جہاں 936 بچوں کو حوثی ملیشیا میں بھرتی ریکارڈ کی گئی۔

دشوار اقتصادی اور معاشی حالات نے یمن میں بچوں کی بھرتی کے رجحان کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا نے متعدد طریقے اختیار کیے تا کہ یمنی گھرانے اپنے بچوں کو لڑائی کے میدانوں میں بھیجنے پر مجبور ہو جائیں۔ ان طریقوں میں ہر اس خاندان کے لیے پانچ لاکھ یمنی ریال مختص کرنا شامل تھا جن بچّے ان کے پاس نہ ہوں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھرتی کی کارروائی ایک خطرناک اشارہ ہے جو پورے تعلیمی عمل کو برباد کرنے کے درپے ہے۔ رپورٹ میں بعض ایسی حالتوں کا بھی ذکر کیا گیا جب اعلی ثانوی مرحلے کے طلبہ کو امتحانی مراکز سے یہ وعدہ کر کے اٹھا لیا گیا کہ انہیں امتحان کے بغیر ہی اعلی نمبر دے دیے جائیں گے۔ ان میں بعض تو لڑائی کے محاذ پر ایک ماہ بھی نہ گزار سکے اور ان کی واپسی لاش کی صورت میں ہوئی۔

رپورٹ میں اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ 21 ستمبر 2014ء سے 21 ستمبر 2018ء کے درمیان حوثی ملیشیا کے ہاتھوں بھرتی ہونے والے بچوں میں سے 1539 ہلاک اور 1166 زخمی ہو گئے۔

ہلاک ہونے والے مذکورہ بچوں کے بہت سے والدین نے حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا کہ اُن کے بچوں کو فرقہ وارانہ طور پر ملیشیا سے تعلق نہ ہونے پر لڑائی کی اگلی صفوں میں رکھا گیا جب کہ حوثی فرقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو چیک پوائنٹس پر نگرانی کی ذمّے داری سونپی گئی۔