.

بشار حکومت نے سیکڑوں دہشت گردوں کو اِدلب منتقل کر دیا ہے : المرصد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ 'المرصد' نے بتایا ہے کہ شامی حکومت نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب مشرقی صوبے دیر الزور سے سیکڑوں دہشت گردوں کو شمال مغرب میں اِدلب صوبے منتقل کیا۔ اِدلب ملک میں اپوزیشن گروپوں اور شدت پسندوں کا آخری گڑھ ہے۔

المرصد کے مطابق شامی حکومت اور ایرانی فورسز نے داعش تنظیم کے 400 سے زیادہ عناصر کو اتوار کی شام عراق کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے البوکمال سے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ان کی البوکمال سے ادلب صوبے کے مشرقی دیہی علاقے میں منتقلی عمل میں آئی۔

ادلب صوبہ شامی اپوزیشن گروپوں اور دہشت گردوں کا آخری مرکزی گڑھ ہے اور شامی حکومت اس کا کنٹرول واپس لینے کے لیے کوشاں ہے۔

ماسکو اور انقرہ ادلب صوبے میں شامی حکومت کی فورسز اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان ایک غیر فوجی علاقہ قائم کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔ اس کا مقصد علاقے کو کسی بھی فوجی حملے سے بچانا ہے۔ شامی فوج کئی ہفتوں سے ادلب پر عسکری چڑھائی کے لیے تیاری کر رہی ہے جب کہ اقوام متحدہ کو اندیشہ ہے کہ اس کا نتیجہ "انسانی المیے" کی صورت میں سامنے آئے گا"۔

ادلب صوبے کے زیادہ تر علاقوں پر ہیئۃ تحریر الشام تنظیم (سابقہ النصرہ فرنٹ) کا کنٹرول ہے۔ بقیہ علاقوں میں دیگر گروپ پائے جاتے ہیں جن میں نمایاں ترین نام حرکۃ احرار الشام کا ہے۔

رواں سال کے آغاز پر شامی فورسز نے ادلب صوبے کے اطراف بعض علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

ادلب صوبے اور اس کے پڑوس کے بعض علاقوں میں اس وقت مجموعی طور پر تیس لاکھ کے قریب افراد رہ رہے ہیں۔ ان میں آدھے لوگ ملک کے دیگر علاقوں سے نقل مکانی کر کے آئے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد اُن جنگجوؤں کی ہے جنہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔