.

شاہ سلمان آج تیز رفتار "حرمین ایکسپریس" کا افتتاح کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں "حرمین ایکسپریس" ٹرین کے سرکاری طور پر افتتاح کی تقریب آج منگل کے روز خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے زیر سرپرستی منعقدہ ہو رہی ہے۔ افتتاحی تقریب میں مقامی اور بین الاقوامی عہدے داران کی ایک کہکشاں نظر آئے گی۔ علاوہ ازیں مذہبی شخصیات، پالیسی ساز افراد، بڑے سرمایہ کار اور حرمین ایکسپریس کے منصوبے میں شریک کمپنیوں کے نمائندے بھی موجود ہوں گے۔

سعودی خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق یہ بات مملکت کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ ڈاکٹر نبیل بن محمد العامودی نے پیر کے روز بتائی۔ انہوں نے اس شان دار منصوبے کی سرپرستی اور سپورٹ کرنے پر سعودی فرماں روا کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ العامودی نے باور کرایا کہ "حرمین ایکسپریس اس امر کی دلیل ہے کہ سعودی حکومت شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں حرمین شریفین اور وہاں آںے والے زائرین کی خدمت کے لیے انتہائی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ سعودی فرماں روا اور ولی عہد نے یہ عزم کیا ہوا ہے کہ مملکت آنے والے حجاج کرام اور معتمرین کو بہترین سہولیات پیش کرنے کے حوالے سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ چھوڑا جائے"۔

ادھر سعودی عرب کی جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رمیح الرمیح کا کہنا ہے کہ "مجموعی طور پر حرمین ٹرین کے ٹریک کی لمبائی 450 کلو میٹر ہے۔ یہ ٹرین مملکت کے پانچ اہم اسٹیشنوں مکہ مکرمہ، جدہ، شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے، شاہ عبداللہ اکنامک سٹی اور مدینہ منورہ سے گذرے گی۔ ٹرین میں 417 نشستیں ہیں اور یہ 300 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گی۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 138 پُل بنائے گئے اور 15 کروڑ کیوبک میٹر کے قریب ریت اور چٹانوں کو ہٹا کر راستہ بنایا گیا۔ دوسرے مرحلے میں چار اسٹیشنز تعمیر کیے گئے جو مکہ مکرمہ ، جدہ، کنگ عبدالعزیز اکنامک سٹی اور مدینہ منورہ میں ہیں۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں ٹرین کے لیے ٹریک بچھایا گیا، سگنل سسٹم نصب کیا گیا اور ٹکٹ اور بکنگ سسٹم کو حتمی شکل دی گئی۔ اس سلسلے میں تیز رفتار ٹرین کے شعبے میں تجربے کے حامل ایک ہسپانوی الائنس کے ساتھ مل کر حرمین ٹرین کے لیے 12 سالہ مرمت اور دیکھ بھال کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے۔ منصوبے کے لیے بجلی کی بلا تعطّل فراہمی کے واسطے پورے ٹریک پر 6 پاور اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ دو طرفہ ٹریک پر ایک ہی وقت میں 35 بوگیاں چلائی جائیں گی ،،، اور یومیہ اوسطا ایک لاکھ 60 ہزار جب کہ سالانہ 6 کروڑ افراد سفر کریں گے۔