.

اقوام متحدہ کا لیبیا کی حکومت مسلح گروپوں سے آزاد کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں شدید لڑائی کے بعد متحارب فریقین میں عارضی طورپر فائربندی ہوئی ہے مگر بعض مقامات پر اکا دُکا جھڑپوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے لیبیا کی حکومت کو باغیوں کے تسلط سے آزاد کرانے پر زور دیا ہے۔

’العربیہ‘ کے مطابق دارالحکومت طرابلس میں قومی وفاق حکومت کی وفادار ’دفاع طرابلس فورس‘ نامی ملیشیا نے بیشتر علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد جنوبی علاقوں میں سڑکیں کھول دی ہیں۔ جگہ جگہ کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں اور صلاح الدین اور کوبری بازار کے علاقوں میں آمد ورفت کی اجازت دے دی گئی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دُشمن ملیشیا نے‘النقلیہ‘ کیمپ خالی کردیا ہے اور اب اس کا کنٹرول بھی تحفظ طرابلس فورس کے ہاتھ میں ہے۔ اس سے قبل حکومت مخالف جنگجو لیڈرصلاح بادی اور ان کے وفادار جنگجو اس کیمپ میں تھے۔

درایں اثناء لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب غسان سلامہ نے کہا ہے کہ وہ طرابلس میں دوبارہ لڑائی چھڑنے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طرابلس میں جنگ بندی کو دوسرے شہروں تک وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

غسان سلامہ کا کہنا تھا کہ لیبیا میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث عناصر پر کڑٰ پابندیاں عاید کرنے اور حکومت کو مسلح جماعتوں سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ طرابلس میں حکومت کے حامی اور مخالفین کے درمیان جاری لڑائی میں 115 افراد ہلاک 400 زخمی اور 17 لا پتا ہیں۔