.

بصرہ میں انسانی حقوق کی توانا آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی گئی

انسانی حقوق کارکن سعاد العلی کو دن دیہاڑے قتل کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں ایک سرکردہ سماجی اور انسانی حقوق کارکن سعاد العلی کو دن دیہاڑے گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ ان کےقتل کے واقعے کی ایک فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں سعاد کو فائرنگ کا نشانہ بناتے دیکھا جاسکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سعاد العلی اپنے ڈرائیور کے ہمراہ گاڑی پر سوار ہونے والی تھیں کہ اچانک انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ سعاد العلی البصرہ گورنری میں انسانی حقوق کے لیے ایک توانا آواز تھیں۔ انہیں متعدد اطراف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہی ہیں۔

انسانی حقوق نیٹ ورک برائے دفاع اصوات‘ کے ایک مندوب نے بتایا کہ سعاد العلی کو انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں قتل کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سعاد العلی اور دیگر انسانی حقوق کارکنوں کو قتل سمیت دیگر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ یہ دھمکیاں اس وقت دی گئیں جب ایک مظاہرے میں ان کی تصاویر امریکی قونصل جنرل کے ہمراہ سامنے آئی تھیں۔