.

بیت المقدس کا تشخص مٹانے کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے: شاہ عبداللہ

فلسطینیوں کو حق خود ارادیت نہ ملنا سب سے بڑا مسئلہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اُردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے کہا ہے کہ بیت المقدس کا تاریخی، عرب اور اسلامی تشخص مٹانے کی منظم سازش کی جا رہی ہے۔ اردن ان سازشوں کا بھرپور مقابلہ کرے گا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق منگل کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں شاہ عبداللہ نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے تاریخی، اسلامی، عرب اور مسیحی تشخص کو مٹانےکی ہرسازش کا ڈٹ کرمقابلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ القدس صرف اردن کا نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کا مسئلہ ہے۔

اردنی فرمانروا نے کہا کہ ان کے ملک نے اپنی طاقت سے بڑھ کر پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھایا۔ اردن کی تاریخ رحم دلی اور انسانی خدمت کے جذبات سے بھرپورہے۔ دُکھی انسانیت کی خدمت ہمارا شعار رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی مسائل حل کرنے اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی سے لوگوں کو ھجرت سے روکا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین۔ اسرائیل تنازع کا واحد حل ’دو ریاستی فارمولے‘ پرعمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ اسی فارمولے سے فریقین کی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں۔ ہم ایک ایسی خود مختار فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتےہیں جس کی سرحدیں سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں پر ہوں اور مشرقی بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت قرار دیا جائے۔

شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ خطے کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔ ان میں سب سے بڑا بحران فلسطینی قوم کو حق خود ارادیت کا نہ ملنا ہے۔ سال ہا سال سے فلسطینی قوم کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھ کرخطے کو بحرانوں میں دھکیلا گیا۔

انہوں نے قضیہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد پر زور دیا اور کہا کہ دو ریاستی حل سے ہی امن وسلامتی اور بقائے باہمی کی امید پیدا ہوسکتی ہے۔