.

روسی تشویش کے بعد اسرائیل کی شام میں ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے منگل کے روزایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک شام میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھےگا۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنےآیا ہے جب دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ وہ اپنے حلیف بشارالاسد کو جدید ترین طیارہ شکن اور میزائل نظام فراہم کرنے جا رہا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹٰ‘ کے مطابق نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانگی سے قبل انہوں نے کہا کہ شام میں ایران کو اپنا فوجی وجود مضبوط کرنے سے روکنے کے لیے ہماری کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں روسی فوج کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔

قبل ازیں روسی وزیر دفاع سیرگی شویگو نے کہا تھا کہ ماسکو عن قریب شامی رجیم کو ’ایس 300‘ نامی جدید میزائل اور طیارہ شکن نظام فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کو یہ دفاعی نظام دو ہفتوں کے اندر اندر دیا جائے گا۔ روس کی طرف سے یہ اعلان گذشتہ ہفتے شام میں روس کے ایک جنگی جہاز ’ایل 20‘ کو مار گرائے جانے کے واقعے کے بعد کیا گیا۔

روسی وزیر دفاع نے طیارہ حادثے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا اور کہا کہ شام کو جدید ترین دفاعی نظام کی فراہمی اسرائیل کے لیے ایک پیغام ہے۔