.

مصر : اسیوط میں پادری کی اندوہ ناک خود کشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں بدھ کے روز چرچ کے ذرائع نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ ملک کے جنوبی شہر اسیوط میں واقع خانقاہ 'المحرق' کے ایک سینئر مذہبی رہ نما نے خود کشی کر لی ہے۔

ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مذکورہ خانقاہ کے رہ نماؤں نے پادری زینون المقاری کو خود کشی کے بعد مردہ حالت میں پایا۔ المقاری اپنی موت سے کچھ دیر قبل ہی وادی نطرون میں واقع خانقاہ 'ابو مقار' سے واپس آئے تھے۔ بعد ازاں المقاری کی لاش کو خانقاہ کے سینٹ ماریا ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق خانقاہ المحرق کے مذہبی رہ نما اس وقت قاہرہ میں مرکزی چرچ کی قیادت کے ساتھ مل کر پادری المقاری کی آخری رسومات اور تدفین کے انتظامات میں مصروف ہیں۔

قبطی محقق عز توفیق نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حکام زینون المقاری کی خود کشی کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زینون المقاری جن کی عمر 45 برس تھی ،،، اشعیاء المقاری نامی پادری کے روحانی باپ تھے۔ اشعیاء پر چند ماہ قبل وادی نطرون کی خانقاہ ابو مقار کے سربراہ سینٹ ابیابینوس کے قتل کا الزام ہے۔ واضح رہے کہ زینون المقاری کو خانقاہ المحرق منتقل ہونے کے بعد مقامی حلقوں میں بڑا احترام حاصل تھا۔ وہ ان چھ پادریوں میں شامل تھے جن کو سینٹ ابیابینوس کے قتل کی واردات کے بعد وادی نطرون کی خانقاہ ابو مقار سے خانقاہ المحرق منتقل کر دیا گیا۔

سینت ابیابینوس کو رواں سال 29 جولائی کو وادی نطرون کی خانقاہ میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس موقع پر جرم کا الزام خانقاہ کے ایک دوسرے پادری فلتاؤوس المقاری پر عائد کیا گیا تھا۔ فلتاؤوس نے الزام لگنے کے بعد خود کشی کی کوشش کی تھی۔