.

ورکرز کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ، قطر ورلڈ کپ ایک بار پھر تنقید کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں کی توپوں کا رخ ایک بار پھر قطر میں ورلڈ کپ 2022ء کی جانب ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ بہت سے لیبرز اور ورکرز کو کام کے دوران درپیش غیر منصفانہ حالات ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کے روز جاری اپنی نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دوحہ میں ورلڈ کپ کے سلسلے میں ایک تنصیب کی تعمیراتی سائٹ پر کام کرنے والے درجنوں غیر ملکی ورکرز کو کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔

قطر کے حوالے سے نئی رپورٹ میں تنظیم نے بتایا ہے کہ Mercury Mena انجینئرنگ فرم کے ذمّے نیپال، بھارت اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے کئی ورکروں کی تنخواہیں واجب الادا ہیں۔ ان میں ہر ورکر کی ماہانہ تنخواہ 1700 یورو ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان میں بعض ورکروں کوتو دس ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واجبات کی عدم ادائیگی نے کئی لوگوں کی "زندگی تباہ کر دی ہے"۔ تنظیم نے قطری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خود واجب الادا رقوم کی ادائیگی کرے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس نے اپنی رپورٹ کی تیاری میں مذکورہ کمپنی کے 78 ورکرز کے بیانات کا سہارا لیا۔ کمپنی کے نزدیک ایسے ورکرز کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کو ان کے واجبات کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے ،،، اور یہ تعداد سیکڑوں میں بھی ہو سکتی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ قطر میں لاگو "کفیل" کے نظام کے سبب کئی کمپنیوں کو اپنے ورکرز کے استحصال کا موقع ملا۔ اس نظام کے تحت کمپنیاں اپنے ورکرز کو دوسری کمپنی منتقل ہونے یا ملک سے کوچ کر جانے سے روک سکتی ہیں۔

ایمنیسٹی کے مطابق ان ورکرز کے ایک حصّے کو قطر سے کوچ کر جانے کی اجازت دی گئی مگر وہ ان کے ذاتی خرچے پر ہوا۔ تنخواہوں سے محروم ورکرز میں سے بعض اپنے بچوں کو اسکولوں سے نکال لینے پر مجبور ہو گئے جب کہ دیگر بہت سے افراد نے قرض رقم حاصل کی۔