.

اقوام متحدہ کا اسرائیل اور حماس سے ہلاکت آفریں تشدد کو روکنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے اسرائیل اور غزہ کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس سے ہلاکت آفریں تشدد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے فلسطینی علاقوں کے لیے انسانی رابطہ کار جامی مکگولڈریک نے یہ مطالبہ غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں سات فلسطینیوں کی شہادت کے ایک روز بعد کیا ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ مجھے غزہ کی پٹی میں مظاہروں کے دوران میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں دو بچوں سمیت سات فلسطینیوں کی ہلاکت اور سیکڑوں کے زخمی ہونے سے متعلق رپورٹس پر گہرا صدمہ پہنچا ہے‘‘۔

انھوں نے اسرائیل ، حماس اور صورت حال پر اثر ہونے کی صلاحیت کے حامل تمام دوسرے عاملین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورت حال کو مزید ابتر ہونے سے بچانے اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے فوری طور پر کوئی اقدام کریں ۔

اسرائیلی فوجیوں کی فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ سے شہید ہونے والے د لڑکوں کی عمریں بارہ اور چودہ سال تھیں۔غزہ میں 14 مئی سے جاری احتجاجی مظاہرں کے دوران میں یہ ایک خونیں دن تھا۔امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقلی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے اب تک 60 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ فوجیوں نے پتھراؤ کے جواب میں’’ عمل کے معیاری طریق‘‘ کے مطابق فائرنگ کی تھی اور ایک اسرائیلی طیارے نے حماس کے دو ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ اس نے ’’ حماس کو پُرتشدد مظاہروں اور ان کے نتائج وعواقب کا ذمے دار قرار دیا ہے‘‘۔

تاہم صہیونی فوج نے جمعہ کو فلسطینیوں کی شہادت کے حوالے سے براہ راست کسی تبصرے سے انکار کیا ہے۔واضح رہے کہ ہزارون فلسطینی 30 مارچ سے اسرائیل اور غزہ کے درمیان سرحدی علاقے میں ’’ واپسی کے لیے عظیم مارچ‘‘ کے نام سے ہفتہ وار مظاہرے کررہے ہیں۔ اس دوران میں 193 فلسطینی سرحد ی علاقے میں اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ یا فضائی حملوں میں شہید ہوچکے ہیں۔ایک اسرائیلی فوجی بھی ایک فلسطینی نشانہ باز کی گولی کا نشانہ بنا ہے۔

مسٹر مکگولڈرک نے بیا ن میں اسرائیلی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’وہ طاقت کے استعمال کے وقت اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کو بھی پورا کریں ۔نیز تمام فریقوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ بچے کبھی تشدد کا ہدف ہوں گے اور نہ انھیں تشدد کے خطرے سے دوچار کیا جائے گا اور نہ ان کی تشدد میں شرکت کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی‘‘۔